پہلے تو واضح کہ جنگ نہیں کا امکان نہیں اگر حملہ کیا تو اس سے سخت جواب دینگے، امیری رضا مقدم
کلچرل قونصلیٹ میں 12روزہ جنگ، ایران کی فتح سے متعلق کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب، صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)ایرانی کلچرل قونصلیٹ اسلام آباد میں 12روزہ جنگ اور ایران کی فتح سے متعلق دستاویزی ثبوتوں پر مبنی کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی۔ تقریب کے میزبان ایرانی کلچرل قونصلیٹ جبکہ مہمان خصوصی ایرانی سفیر تھے۔ ایرانی کلچرل قونصلیٹ نے 12روزہ جنگ میں پاکستان خصوصاً پاکستانی میڈیا کے مثبت کردار پر اظہار تشکر اور بیانیہ کی جنگ پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے ایڈیٹرز، رپورٹرزاور سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کو مدعو کیاگیا تھا ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں متعین ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے وسائل کے مطابق صہیونی بیانیہ کا مقابلہ کررہے ہیں اور حقائق دنیا کو بتا رہے ہیں،اسلام کی غیر حقیقی تصویر پیش کرنے والے اسرائیلی و مغربی میڈیا اور بیانیہ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، 12 روزہ جنگ میں پاکستان کے میڈیا نے ہماری مکمل تائید کی ،ہم اس وقت سرجیکل وار کیساتھ ساتھ بیانیہ کی جنگ میں بھی نبرد آزما ہے ،مغربی و صہیونی بیانیہ مضبوط نہیں البتہ پراپیگنڈا زیادہ ہے ،اگر ان کا بیانیہ درست ہوتا تو پھر انہیں اس طرح کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوتا جو اس وقت مغرب و اسرائیل کو ہے
صحافیوں کے سوالات پر انکا کہنا تھا کہ 1948ء سے قبل مشرق وسطیٰ میں فقط فلسطین تھا اسی کو اسلامی ممالک سمیت دینا مانتی تھی پھر کچھ عرصہ بعد دو طبقے بنے ایک فقط اسرائیل کو ناجائز مانتا ہے اور دوسرا دو ریاستوں کی بات کرتا ہے حالانکہ جو دو ریاستی حل کی وقتی بات تسلیم کررہے ہیں وہ فقط امہ کو دھوکہ دے رہے اور تفریق پیدا کررہے ہیں ۔اسرائیل فقط ایک صہیونی ریاست کا قائل ہے وہ فقط دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے ۔امریکہ نے جنگ مسلط کی تو ہمارا ردعمل 12 روزہ جنگ کی طرح ہوگا جنگ فقط جنگی ہتھیاروں نہیں بلکہ عزم و ارادے سے لڑی جاتی ہے لبنان، شام میں مزاحمتی تحریکیوں پر حملے اس جنگ کا حصہ ہے کیونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ پاکستاں میں ہمارے حمایت کرنے والے یہاں کی عوام ہے کوئی گروہ نہیں ۔ جن ممالک کیساتھ سفارتی تعلقات تھے ان سب کو 47 ویں سالگرہ پر مدعو کیا گیا ۔بھارتی سفارت کاروں کو بھی مدعو کیا گیا، وہ خود نہیں آئے۔ خطے کے ممالک اس صورتحال میں اخلاقی طور پر ہمارے ساتھ ہیں ۔انشاء اللہ جنگ نہیں ہوگی، اگر خدا نخواستہ جنگ ہوئی تو پھر علاقائی ممالک کو خود فیصلہ کرنا ہوگا ۔کیونکہ اگر جنگ ہوئی تو یہ خطے کے ممالک کے خلاف ہوگی
انکا مزید کہناتھا کہ 12 روزہ جنگ میں پاکستان کے ہر حوالے سے ایران کا ساتھ دیا ۔ خطے اور بین الاقوامی فورمز پر بھی پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا اور ووٹ دیا ، پاکستان کی ریاست کی دیگر ممالک کی نسبت بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے کہ ایران کا نقصان پاکستان کا نقصان ہے ۔ اسلامی ممالک میں اتحاد نہ ہونا انکا سیاسی موقف ہے، ہم ہمیشہ اتحاد کے علمبردار رہے ہیں ہم آج بھی اتحاد امت کیلئے کوشاں ہیں ، امید کرتا ہوں کہ اسلامی ممالک میں تعاون فروغ پائیگا ۔ غزہ پیس بورڈ کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو یہ ہے کہ سیز فائر ہو اور فنڈ جمع کرکے آگے بڑھیں۔ غزہ پیس بورڈ کا ہیڈ ٹرمپ ہے اور وہ ایک ارب روپے مانگتا ہے ۔ انہوں صدر ٹرمپ کی جانب سے ممبر بورڈز سے ایک ارب کی رقم پر تنقید اور طنز کرتے ہویے کہا لہ اگر ٹرمپ شیعہ ہوتے تو 5 فیصد خمس اور سنی ہوتے تو اڑھائی فیصد اپنے پاس رکھے گا اور اگر کافر ہوگا تو وہ سارے پیسے اپنے پاس رکھے گا کچھ نہیں غزہ کو دے گا ۔
انکا مزید کہنا تھا کہ اس کا دوسرا پہلو حماس سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے وہ یہ اسلامی ممالک کے ذریعے چاہتا ہے یہ خطرناک ہے ، پاکستان حکومت نے اسکا اعلان کیا کہ وہ دوسرے پہلو کا حصہ نہیں بنے گا یہ حوصلہ افزا ہے ، پاکستاں اور ایران کے سرحدی علاقوں میں روزگار کیلئے بہترین موقع پیدا کرنے ہونگے ،کیونکہ پاکستان کے بلوچستان میں پاکستان اورایران کے سیستان بلوچستان میں ایران کے دشمنان کارروائیاں کرتے ہیں ،ہمیں ان خطوں دشمنوں کی سازشوں کو اقتصادی و ترقیاتی کاموں سے ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے ایران کی داخلی صورتحال بارے کچھ سوالات پر کہا کہ ہمارے قانون میں ہے کہ خواتین باحجاب ہوں مگر کل پورے ایران میں ریلیاں ہوئیں ان ریلیوں میں باحجاب خواتین بھی تھیں اور بغیر حجاب کے بھی جیسے پاکستان میں بھی ہوتا ہے ہمارے وہاں ایک قانون ضرور ہے مگر حجاب کے حوالے سے کوئی سختی نہیں ، سرکاری اداروں میں البتہ اسکے قواعد و ضوابط لازم ہوتے ہیں اور ایسا ہی ایران کی علاوہ پاکستان و دیگر جگہوں پر ہوتا ہے ۔ ایران میں یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ یا کم از کم مساوی ہیں ہر پروفیشنل میں خواتین کسی بھی اسلامی ممالک کے مقابلے میں زیادہ شرح ہے فقط یونیورسٹی، لیکچررز یا ٹیچرز کا تناسب کیا جائے تو وہ 40 فیصد سے زائد ہے
