نصرت حسین کالم نگار
انقلاب لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے اور اگر انقلاب کی بنیاد مذہبی ہو تو اسے مردانہ انقلاب سمجھا جاتا ہے۔یہ سوچ عام ہے کہ مذہبی لوگ خواتین پر جبر کرتے ہیں اور انہیں گھروں میں بٹھا دیتے ہیں۔انقلاب اسلامی ایران کے بارے میں بھی یہی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر جب آدمی تھوڑی سی تحقیق کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔امام خمینی پر یہ کچھ شدت پسندوں نے اس وجہ سے اعتراض کیا کہ آپ خواتین کو گھر سے باہر نکال کر سکول،کالجز اور دانشگاہوں میں لا رہے ہیں یہ اسلام کے خلاف ہے اورکل یہی آپ کے خلاف ہوں گی۔امام خمینی نے اس پر بڑی واضح پالیسی اختیار کی کہ خواتین کا ایرانی معاشرے میں موثر کردار ہو گا۔خواتین ہماری کمزوری نہیں ہماری طاقت ہوں گی۔یہ بات کس قدر واقع کے مطابق ہے کہ آپ چند ہفتے پہلے کے نظام مخالف مظاہروں کے جواب میں ہونے والے مظاہروں کو دیکھیں آپ کو تہران کے تیس لاکھ کے مظاہرین میں بیس لاکھ خواتین نظر آئیں گی۔جب آپ بہنوں اور بیٹوں کو تربیت کے ساتھ آزادی دیتے ہیں تو وہ حیران کن معجزے انجام دیتی ہیں۔آج ایران کی عورت نے ایران کے پورے نظام کو سنبھالا ہوا ہے۔۔ہمارے یہاں تو آج تک یہی مسئلہ اختلافی ہے کہ عورت نماز کے لیے مسجد میں جا سکتی ہے یا نہیں جا سکتی۔ایران میں ہر مسجد کے دو حصے ہیں ایک حصہ خواتین کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔بہت سے مواقع پر تو واقعا حیرت ہوتی ہے کہ وہاں نماز جنازہ کے بڑے بڑے اجتماعات میں خواتین اسی طرح شریک ہیں جیسے دیگر معاملات میں شریک ہوتی ہیں۔ویسے تو زندگی کے ہر شعبہ میں انقلاب نے انقلاب برپا کر دیا ہم چند اہم شعبہ جات پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں تعلیم سب سے اہم شعبہ ہوتا ہے۔تعلیم ہر چیز کی بنیاد ہے اور آج تو دور ہی نالج بیس اکانومی کا چل رہا ہے۔اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو انقلاب کے بعد ایران میں خواتین کی تعلیم میں شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انقلاب سے قبل خواتین کی خواندگی بہت کم تھی لیکن اب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 97 فیصد خواتین خواندہ ہیں، یعنی تقریباً ہر سو میں سے 97 خواتین پڑھنا–لکھنا جانتی ہیں جو انقلاب سے پہلے کی صورتحال کے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہے۔ یونیورسٹی سطح پر بھی خواتین کی شرکت بہت زیادہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کل یونیورسٹی میں داخل شدہ طلباء میں تقریباً 60 فیصد خواتین ہیں، اور داخلہ کی تعداد بھی انقلاب کے بعد تقریباً 20 گنا بڑھ چکی ہے۔آپ تصور کریں کہ وہاں کی جامعات میں اس قدر خواتین طالبات ہیں۔تہران یونیورسٹی کے پروفیسر مرواندی کو ایک اینکر نے کہا کہ آپ نے خواتین پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں تو انہوں نے خوب کہا تھا کہ میں سوالہ سال سے تہران یونیورسٹی میں ہوں سوائے ایک میری باقی سب ڈینز خواتین ہی رہی ہیں۔ایرانی خواتین اور ان کی آزادی حقیقت کی نظر سے دیکھیں۔
تحقیق اور اکیڈمک پوزیشنز میں بھی خواتین نے خوب ترقی کی ہے۔ایران میں خواتین کی اکیڈمک اساتذہ کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں 2020 تک تقریباً 34 فیصد تدریسی عملہ خواتین ہیں، جو انقلاب سے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ مزید برآں تحقیقی سرگرمیوں میں خواتین کا حصہ بڑھا ہے؛ ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کی تحۡیق میں حصہ داری اور ترقی کے پراجیکٹس میں 27 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 39.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین تحقیق کے میدان میں بھی اپنی کامیابیوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔
طاقت کا مرکز پارلیمان ہوتی ہے،ایران میں انقلاب کے بعد خواتین پارلیمانی نظام کا حصہ بنی ہیں اور قانون سازی اور ملک چلانے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ 2024 کے انتخابات کے بعد 14خواتین پارلیمنٹ پہنچی ہیں۔رپورٹس بتاتی ہیں کہ خواتین ممبران نے پارلیمانی کارروائیوں میں بہت فعال کردار ادا کیا، ایجنڈا آئٹمز پیش کیے اور قانون سازی میں اہم حصہ لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ رپورٹس کے مطابق خواتین نے کل پیش کردہ ایجنڈا آئٹمز کا تقریباً نصف حصہ پیش کیا جو ان کی عملی شمولیت اور اثر و رسوخ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔یعنی آپ اندازہ لگائیں کہ ایرانی پارلیمنٹ میں جو بھی قانون سازی ہوئی اس کے لیے نصف حصہ خواتین کی فعالیت کا نتیجہ تھا۔یہ تو انہوں نے اپنی آبادی کے مطابق سو فیصد وصول کر لیا۔
خواتین صرف پارلیمنٹ کا ہی حصہ نہیں ہیں بلکہ ایرانی صدر کی کابینہ میں بھی ہیں۔فرزانہ صادق اب ایران میں پزشکان کی حکومت میں روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ جیسے اہم محکمے کی وزیر ہیں، جبکہ دیگر خواتین اہم عہدوں جیسے وائس پریزیڈنٹ اور حکومت کے ترجمان کے طور پر بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایران میں خواتین صرف نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ فیصلہ سازی اور اعلیٰ انتظامی کرداروں میں بھی مؤثر طریقے سے حصہ لے رہی ہیں۔چند ماہ پہلے اس وقت ایک تصویر بڑی وائرل ہوئی تھی ایران کی خاتون وزیر اپنی خواتین آفیسرز کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستانی وزراء کے سامنے بیٹھی ہیں۔اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ ایک طرف سارے مرد تھے اور دوسری طرف ساری خواتین تھیں۔اس وقت سوش میڈیا پر بہت سے لوگوں نے لکھا تھا کہ ایرانی خواتین کی طاقت کا عملی اظہار کرتی تصویر ہے۔ویسے بھی مشہور ضرب المثل ہے ایک تصویر ہزار الفاظ سے بہتر ہوتی ہے۔
