تحریر ،انتظار حیدری

20 دسمبر پاکستان سمیت عالمی سطح پر انسانی یکجہتی کے طور پر منایا جاتاہے اور اس کی تاریخ دو عشروں پر محیط ہے مگر کیا عملی طور پر انسانی یکجہتی کے مظاہر ریاستی سطح پر بھی کبھی نظر آئے ہیں، عوا م کی جانب سے اکثراوقات اپنے ملک کے علاوہ پوری دنیا میں ہونیوالے مظالم پر نہ صرف آواز بلند کی جاتی ہے بلکہ بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے ہیں، ریاستی سطح پر اقوام متحدہ جیسے فورمز پر مذمتی قراردادیں بھی منظور ہوتی ہیں مگراس کے باوجود انسان کو آج انسان سے ہی خطرات ہیں ۔
21 ویں صدی کا آغاز ہوا تو اقوام عالم اس جانب متوجہ ہوئی کہ انسانی یکجہتی کے طور پر اس صدی کو منایا جائے اور زیادہ سے زیادہ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا جائے ،ایک عالمی فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایاگیا مگر افسوس اسی صدی کے آغاز میں نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان جنگ کی تباہی دنیا نے دیکھی پھر کچھ عرصہ بعد عراق اور امریکہ آمنے سامنے کھڑے نظر آئے اور دہشت گردی کی لہر ایسی اٹھی کہ دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہر طرف کشت و خون ہی دکھائی دیا، پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف اس جنگ میں نہ صرف فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا بلکہ پاکستانی عوام نے اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ایک بڑی قربانی بھی دی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے دوسری طرف گزشتہ تین سال سے جوکچھ غزہ، اہل فلسطین کیساتھ رویہ روا رکھاگیا، جس طرح سے اس جنگ کو غزہ کے بعد شام، لبنان اور ایران تک پھیلانے کی کوششیں کی گئیں افسوس عالمی سطح پر اس جنگی ماحول کے خاتمے کےلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ اٹھائے گئے، انڈیا کی جانب سے پاکستان کےخلاف سازشوں کے بعد جس طرح اچانک جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور بالآخر اسے منہ کی کھانی پڑی اور پاکستان کا نام دنیا میں ایک بہترین دفاعی عسکری کیساتھ ذمہ دارملک کے طور پر ابھرا وہ بھی کسی اعزاز سے کم نہیں مگراس کے باوجود بھارتی پراکسیزکے ذریعے بدامنی کی سازشیں جاری ہیں ۔
20 دسمبر کو انسانی یکجہتی کے طور پر منانے کا بنیادی مقاصد حکومتوں کو بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی یاددہانی ،، یکجہتی کی اہمیت کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے، غربت کے خاتمے سمیت پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے یکجہتی کے فروغ کے طریقوں پر بحث کی حوصلہ افزائی اور غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرانا تھے مگر 20 سال بعد اقوام عالم کو کیا اس حوالے سے سوچنے کی ضرورت نہیں کہ کیا حکومتوں کو بین الاقوامی معاہدوں ، انسانی حقوق کے اصولوں پر کاربند رکھنے کےلئے اقدامات ہوئے؟ ایسا ہو اتو پھر غزہ میں جوکچھ اسرائیل نے کیا اس پر کیوں اب تک کوئی ایکشن نہ ہوسکا، بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود کیوں ظالم وقابض ریاست کا ہاتھ نہ روکاجاسکا؟اہل کشمیر کیساتھ جو ظلم بھارتی حکومت روا رکھے ہوئے ہے اس پر کیا اقدامات ہوئے؟ حالیہ دنو ں ایک مسلم ڈاکٹر کیساتھ ایک بھارتی ریاست کے وزیراعلیٰ نے جس طرح توہین کی اس پر کیا اقدامات اٹھائے؟ حجاب کے نام پر جس طرح مغرب میں مسلم خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے اس پر کہاں انسانی یکجہتی کا اصول لاگو کیاگیا؟روہنگیا ہو ، سوڈان ہو، لبنان ہو یا شام وہاں کچھ عوام کیساتھ ہوا ؟ اب اگر اس دن کے پس منظر کے بارے میں غورکریں تو 20دسمبر2005ءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو عالمی یکجہتی کے طور پر منانے کی منظوری دی تھی کیونکہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے خاتمے کے لئے سب سے بہترین عمل انسانی یکجہتی ہی کا اصول تھا جس کے تحت معاشروں میں تہذیب و رواداری کا قیام ممکن تھا ۔
