بانی انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی اور شہید آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اٹھائے رکھا
کشمیر میں اسلام پہنچانے اور اتحاد امت کا فریضہ بھی سادات کیساتھ ان ہستیوں سے جڑا
آیت اللہ خامنہ ای سے جڑا ان کی زندگی کا وہ حصہ جو شائد آج تک اس طرح منظر عام پر نہ آسکا
تحریر: مقصود منتظر، ترتیب انتظار حیدری
رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دنیا بھر کی طرح مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف سوگ و احتجاجی کیفیت ہے مگر کشمیر میں محسوس کیا جارہا ہے جیسے ایک سائبان سر سے اٹھ گیا، دنیا حیران و پریشاں ہے کہ مقبوضہ وادی جو نہ صرف اپنے مسائل اپنے شہدا کے حوالے سے نوحہ کناں ہے وہاں ہزاروں میل دور ایران کے رہبر اعلی کی شہادت پر سوگ کی کیفیت کیوں؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب مندرجہ ذیل تحریر میں دیا جارہا ہے۔
شہید رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای کیساتھ یا پھر ایرانی قوم و سادات کیساتھ کشمیر کے باشندوں کا مذہبی، ثقافتی اور قومی رشتہ بہت پختہ ہے اور ایک تاریخ ہے علاؤہ ازیں یہاں جو باہمی محبت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد امہ کی فضا ہے وہ بھی رہبر شہید کی کاوشوں کا نتیجہ ہے
“15منٹ کی تقریر نے خامنہ ای کو کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا”
1979 میں ہزاروں میل دُور ایران میں آئے انقلاب اور اس کے نقیب امام خمینی کے متعلق کشمیر کے لوگ صرف اخباروں کی سرخیوں کے ذریعہ متعارف تھے۔ لیکن انقلاب کے ایک سال بعد خمینی نے اپنے خاص معتمدین کو دنیا کے کئی علاقوں میں بھیجا۔ اُن کے دست راست علی خامنہ ای اسی سلسلے میں1980 کے دوران سرینگر پہنچے۔
یہاں لوگوں کی بڑی تعداد نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور اُس وقت کے میرواعظ محمد فاروق (میرواعظ عمر کے والد) کی دعوت پر وہ جمعہ کے روز تاریخی جامع مسجد پہنچے، جہاں انھوں نے 15 منٹ کی تقریر کے دوران مسلکی اتحاد پر زور دیا، امام خمینی کا تعارف کرایا اور انقلاب کے اہداف اور مقاصد بیان کیے۔
اس دورے کی روداد معروف شیعہ دانشور اور مورخ قلبِ حسین رضوی کشمیری نے اپنی خودنوشتہ سوانح میں درج کی ہے۔
قلبِ حسین کا 2015 میں انتقال ہوگیا ہے، تاہم ان کی سوانح کشمیر کے سبھی حلقوں میں مقبول ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ’فقط 15 منٹ کی تقریر نے خامنہ ای کو کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا۔ انھوں نے نہ صرف اتحاد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ایک سُنی مسجد میں جاکر سُنی امام کے پیچھے نماز ادا کی۔ اُس وقت تک شیعہ اور سنی ایک دوسرے کی مساجد میں نماز نہیں ادا کرتے تھے۔ انھوں نے مختصر دورے کے دوران مسلکی رواداری اور بھائی چارے کی ایسی روایت قائم کی جو اب بھی قائم ہے۔‘
واضح رہے خامنہ ای نے یہ تقریر فارسی میں کی تھی، جس کا بعد میں آغا سید محمد حسین نے کشمیری میں ترجمہ پڑھا تھا۔
رضوی کے مطابق، خامنہ ای کی آمد سے چند روز قبل انھوں نے دیگر نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک گاڑی پر لاؤڈ سپیکر لگایا اور سرینگر کی بستیوں میں اُن کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے جامع مسجد پہنچنے کی تلقین کی۔
خامنہ ای جب سرینگر پہنچے تو گاڑیوں کا ایک طویل کاروان ان کے پیچھے تھا، لیکن جامع مسجد میں ان کی مختصر تقریر ایرانی قیادت اور کشمیریوں کے درمیان جذباتی تعلق کی بنیاد بن گئی۔
کیا امام خمینی کے اجداد کشمیری تھے؟ اس سوال پر کشمیر کے ادبی اور دانشور حلقوں میں دہائیوں سے بحث جاری ہے۔،تصویر کا ذریعہ،تصویر کا کیپشن کیا امام خمینی کے اجداد کشمیری تھے؟ اس سوال پر کشمیر کے ادبی اور دانشور حلقوں میں دہائیوں سے بحث جاری ہے۔
مذہبی، روحانی اور ثقافتی تعلق سرینگر کے کئی علاقوں اور بڈگام کی بیشتر بستیوں میں ایران کے رہبر اعلیٰ کے ادارے کو خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں کی شیعہ آبادی عقیدے اور عام زندگی کے مسائل سے متعلق اسی ادارے کو حکم مانتی ہے۔
بڈگام کے ایک دانشور سید سبط حسن کہتے ہیں: ’خامنہ ای ہمارے لیے کوئی غیرملکی حکمران نہیں، بلکہ ولایت فقیہہ تھے، جس کا مطلب عبادت، تجارت، شادی بیاہ اور تجہیز و تکفین تک کے سبھی معاملات میں ان کی ہی ہدایت پر عمل ہوتا تھا۔ اس لحاظ سے یہ قتل ہمیں یتیم کرنے کے مترادف ہے۔‘
ایران اور کشمیر کے درمیان روحانی تعلق کی تاریخ وادی میں شعیہ نفوذ سے بہت پرانی ہے۔ چودہویں صدی میں وادی آنے والے ایرانی صوفی بزرگ علما سید شرف الدین بلبل شاہ اور میرسید علی ہمدانی کو کشمیر میں اسلام کے بانیوں کی حیثیت حاصل ہے۔ سید علی ہمدانی کے ساتھ جو 700 ایرانی سادات آئے تھے، وہ پیپر ماشی، شال بافی، قالین بافی، سنگ تراشی، شیشہ گری اور دیگر درجنوں دستکاریوں کے ماہر تھے۔ ان ہی کی وجہ سے کشمیریوں نے ان سبھی دستکاریوں پر مہارت حاصل کی اور دستکاری آج بھی کشمیری معیشت کا اہم حصہ ہے۔
ایران کے ساتھ ثقافتی تعلق کی ایک اور وجہ فارسی زبان ہے۔ اُنیسویں صدی تک کشمیر کی سرکاری زبان فارسی تھی، اور بعد میں ڈوگرہ مہاراجہ نے ہندووں کے اصرار پر اسے بدل کر اُردو کو سرکاری زبان بنایا تھا۔
کشمیر کے رہنے والے شاعر ملا طاہر غنی کشمیری فارسی کے عالمی شہرت یافتہ شاعر گزرے ہیں جو ایران کے ادبی حلقوں میں کافی مقبول ہوئے۔ ان کی وجہ سے بڑی تعداد میں ایران کے ادیب اور شاعر کشمیر آئے تھے۔ جن ایرانی شعرا کا انتقال کشمیر میں ہوا، ان کے لیے سرینگر کے ڈل گیٹ علاقے میں ایک مخصوص قبرستان وقف کیا گیا تھا، جو ’مزارِ شعرا‘ کے نام سے مشہور ہے۔
