تحریر:۔ انتظار حیدری
تاریخ میں جیسے ابراہہ کو اپنی طاقت ، فوج پر جس انداز میں گھمنڈ تھا وہی غرو دور حاضر کے ابراہہ کا بھی ہے اسی وجہ سے کبھی وہ دہشت گردی کا نام لے کر افغانستان ،کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر عراق کو تباہ کرتاہے ، کبھی لیبیا اور شام میں شر پسندوں اور دہشت گردوں کے ذریعے ملکوں کو تاراج کرنے کی سازش رچاتاہے کبھی رات کے اندھیرے میں وینزویلا پر چڑھائی کرتاہے اور کبھی سفارتکاری میں خیانت کاری کیساتھ ایران پر چڑھائی کردیتاہے مگراب اس گھمنڈ اس غرور اور اس طاقت کا زوال شروع ہوا چاہتاہے ۔
اب بی بی سی جیسا ادارہ اپنی رپورٹ شائع کررہاہے اور بتا رہاہے کہ کس انداز سے ایران نے اپنے سے بڑے دشمن کے ٹھکانوں کو تاک تاک کر نشانہ بنایا ، 20 اڈے ناکارہ بنادیئے گئے، ایرانی کم قیمت ڈرون اس ابراہہ کے جدید ترین لڑاکا طیاروں سے بھڑ گئے ،

کئی دہائیاں قبل خریدے گئے پرانے جنگی جہاز نے امریکی فوجی اڈوں پر وہ قیامت ڈھادی کہ آج تک خود امریکہ سمیت دفاعی صورتحال کو سمجھنے والے حیران و دنگ ہیں کہ کیسے ایک پرانا جنگی طیارہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوجی اڈوں کو نشانہ بناسکتاہے آج کی دنیا معجزوں کی نہیں عمل کی ہے اب پراپیگنڈہ جتنا مرضی کرلیا جائے مگر حقائق سامنے آکر رہتے ہیں کیونکہ پاکستان کےخلاف انڈیا کی جانب سے بے جا پراپیگنڈہ کیاگیا مگر جب پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا تو دنیا نے دیکھا کہ کیسے اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے مودی کے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی اور دنیا نہ صرف حیران ہوئی بلکہ پاکستان کی کمال مہارت کی معترف ٹھہری اور آج عرب میڈیا رپورٹس دے رہاہے کہ مودی کی ایک عشرے کی محنت رائیگاں گئی اور پاکستان دنیا کے نقشے پرغیر معمولی طور پر ابھر کر سامنے آیاہے جس نے دفاع کیساتھ کمال مہارت سے سفارتکاری میں وہ جگہ بنالی جس کے بارے میں دنیا خصوصاً بھارت سوچ بھی نہیں سکتاتھا یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتکاری کیساتھ ثالثی کا کردار نبھا رہاہے لہٰذا گودی میڈیا ہو یا مغربی میڈیا کا پراپیگنڈہ پاکستان نے انڈین میڈیا کے پراپیگنڈہ کو ناکا م بنایا اور ایران نے مغربی میڈیا کیساتھ خود پر ہونیوالی یلغار کو ناکام بنایا، امریکہ جو ایران میں رجیم چینج چاہتا تھا وہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وینزویلا کی طرح یہاں بھی اگر اقتدار سے ایک شخصیت کو ہٹادیا گیا یا اسے ٹارگٹ کردیاگیا تو وہ مقاصد پالے گا مگر اسے صہیونی بچھو نے اس دلدل میں دھکیل دیا جہاں سے اب واپسی کا راستہ تلاش کرنا مشکل ہورہاہے ۔
امریکہ کو ابتدائی بریفنگ میں بتایاگیا کہ کس انداز سے ایران پر جارحیت کی جائےگی اور رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو شہید کیا جائےگا اور جیسے ہی یہ اقدام ہوگا اس نظام سے تنگ عوام سڑکوں پر نکل آئینگے اور پھر امریکہ اور اسرائیل کے لئے راستہ ہموار ہوجائےگا اور اس طرح ایک ہفتے میں ایران کی سرزمین ، اس کے تیل و گیس کے ذخائر سامراج کے قبضے میں ہونگے مگر یہ سب دیوانے کا خواب ثابت ہوئے ، ایرا ن نے آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، ان کے خاندان، رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر خاص اور سیکورٹی ایڈوائزر علی لاریجانی ، میناب کے بچوں سمیت ہزاروں قربانیاں دینے والی قوم اس جارحیت کے بعدمزید متفق ہوگئی، دور حاضر کے ابراہہ نے تہذیب تباہ کرنے کی دھمکی دی تو ایران کے بڑے شہر، مذہبی مراکز، بازار، دیہات، گلیوں میں عوام کا جم غفیر امڈ آیا اور کہاکہ اس تہذیب کے تحفظ کےلئے کروڑوں لوگ میدان میں ہیں اب اگر تم جارحیت سے مٹا سکو آﺅ ہم مقابلے کےلئے تیار ہیں ۔اب اس لمحے جب امریکہ کو خیال آیا تو 40روز گزر چکے تھے ایرانی تھکے نہ جھکے مگر موجودہ دور کا ابراہہ اور اس کی آستین میں بیٹھا بچھو اب تھکا دینے والے محاذ پر اپنی ناکامیاں دیکھ رہے تھے ۔ آخر اپریل کے پہلے ہفتے میں مذاکرات کی میز پاکستان کی کاوشوں کے ذریعے سجائی گئی،میناب شہداءکے ورثا اسلا م آباد پہنچے تو شانداز استقبال کیساتھ انہیں مذاتی مقام پر لایاگیا اب ایران میدان جنگ کے بعد مذاکراتی میز پر بھی فاتح تھا اور امریکہ کے پاس راہ فرار کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ جے ڈی وینس جب سے اسلام آباد سے گئے ہیںآج تک امریکی صدر کے اس اعتماد کو بحال نہ کرسکے کہ مستقبل کے جانشین کیاوہ بن سکتے ہیں ؟ کیونکہ امریکہ سمجھتا تھا کہ وہ مذاکرات کی میز پر جیت جائیگا اور وہ معاہدہ ہوگا جو امریکی شرائط پر ہوگا مگر ایران پیچھے نہ ہٹااور ڈیڈلاک ہوگیا۔اب اس ڈیڈلاک کا خاتمہ پھر قریب تھا کہ ہاتھی کے دوست بچھو نے لبنان پر حملہ کرکے اور غز ہ میں انسانیت سوز مظالم بڑھا کر پھر اسے تنگ ہرمز کی دلدل میں دھکیل دیا جہاں اب آخری اطلاعات تک جنہیں یہ ہاتھی چیونٹیاں سمجھتا تھا وہ ایسا جان لیوا حملہ کرچکی ہیں کہ اب سے واپس جانا ہے اور ہر صورت جانا ہے اسی وجہ سے چند لمحے پہلے اپنے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کردیا کہ اب ایران کیساتھ ڈیل ہوگی اور جس بھی صورت میں ہو اب معاہدہ ہوگا چاہے وہ کسی بھی طریقے سے ہو ۔ دوسری طرف تلوار پر خون حاوی ہوچکاہے

پیرس سمیت دنیا بھر میں اسرائیل سے فاصلے اختیار کئے جارہے ہیں جس کی واضح مثال پیرس میں ہونیوالے بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور اسے آگاہ کردیاگیا ہے ، ایک طرف امریکہ کےخلاف مظاہرے ہورہے ہیں اور دوسری طرف اس مریکی معاشرے میں جہاں اسرائیل مخالف بات سننا بھی گناہ سمجھا جاتاتھا اب چوکوں چوراہوں اور کانگریس کی میٹنگز میں تنقید کی جارہی ہے اور امریکی صدر نیتن یاہوکو ناشکرا اور پاگل قرار دے رہے ہیں ۔

