8 اپریل سے 14جون68 دن کی کہانی، 40 مرتبہ اتار چڑھاﺅ ، مذاکرات، دھمکیاں ، اتفاق رائے ، حملے اور پھر ایم ا و یو ، جانیے 108 کی جنگ کے بعد سے اب تک کیا کچھ ہوا ؟
اب 18جون سے 16 اگست تک 60دن پھر صبر آزما ہونگے۔ مذاکرات کس انداز میں آگے بڑھیں گے ، پائیدار امن معاہدہ کیا ہوگا؟
کہیں اسرائیل پھر اسے سبوتاژ تو نہیں کرے گا؟ آئیے ان 68دنوں کی مختصر تاریخ پر نظر دواڑتے ہیں ، 8اپریل سے 14 جون تک کیا ہوا۔
تحریر انتظار حیدری
8اپریل پاکستان کی کاوشوں سے سیز فائر اور پھر 47سال بعد امریکہ ایران کے وفو د اسلام آباد میں آئے، طویل مذاکرات ہوئے۔9اپریل۔ جب بات چیت ایک ابتدائی ڈرافٹ تک پہنچی ، ایک فون کال نے مذاکرات کو معطل کردیا۔۔۔10 اپریل جب دونوں وفود واپس لوٹ گئے، اب خفیہ سفارتکاری کا مرحلہ شروع ہوگیا۔۔۔۔۔14اپریل جب پاکستان اور چین نے 4نکاتی فارمولاپیش کیا
ایران نے عرب ممالک اور امریکہ سے ہرحانے کا مطالبہ کیا، نقصانات پورے کرو۔۔۔۔۔15اپریل ۔ فیلڈ مارشل آرمی چیف سید عاصم منیر کا دورئہ تہران جب پوری دنیا نے جنگ کے دوران ایک آرمی چیف کو تہران میں اترتے دیکھا ۔ اسی روزوزیراعظم میاں شہبازشریف سعودی عرب پہنچے۔۔۔۔16 اپریل۔ پاکستان کی درپردہ سفارتکاری کے نتیجے میں اور ایران کے دیرینہ مطالبے کو پورا کیاگیا ، لبنان ،اسرائیل میں سیز فائر ہوا۔۔۔۔۔18 اپریل۔ آبنائے ہرمز بند ۔۔۔ دھمکیا ں شروع ہوگئیں ۔ اور امریکی ناکہ بندی کا اعلان۔۔۔۔21 اپریل۔ مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں۔۔۔ مگر بات آگے نہ بڑھی
24 اپریل۔ ایرانی وزیر خارجہ نئی تجاویز کیساتھ پاکستان آئے۔۔۔۔۔25اپریل اپریل جب امریکہ اور پاکستان میں کئی امور پر مشاورت ہوئی، ایران کو پاکستان نے اعتماد میں لیا
26اپریل۔ عباس عراقچی فوری طور پر دوسرا دورئہ پاکستان۔ ۔۔۔۔26اپریل۔ بحری ناکہ بندی کے بعد پاکستان نے ایران کی تجارت کےلئے زمینی راستو ں کو کھولنے کے احکامات جاری کئے۔
27 اپریل۔ جب یو اے ای اوپیک سے الگ ہوا۔ سعودی عرب اور یو اے ای میں معاملے پر نا اتفاقی سامنے آئی۔۔۔۔29 اپریل۔ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز مسترد کردیں۔ کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا
30 اپریل۔ ایرا ن نے آبنائے ہرمز کی ملکیت کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ قانون سازی بھی شروع کردی۔ ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبٓیٰ خامنہ ای نے بڑا اعلان کیا۔۔۔۔۔۔یکم مئی۔ عالمی سطح پر مہنگائی میں تاریخی اضافہ ہوا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو پہنچیں ۔ امریکہ سمیت کئی ممالک میں مظاہرے شروع ہوئے۔۔۔۔۔مئی۔ ٹرمپ کی امریکی کانگریس کو یقین دہانی۔ ایران سے باضابطہ جنگ ختم ۔۔۔۔04۔ مئی ۔۔ جب پہلی بار ایران کی جانب سے14 نکات کا تذکرہ کیاگیا اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھجوائے گئے نکات کا جواب آیا اور یوں خفیہ سفارتکاری آگے بڑھتی رہی ۔۔۔5مئی۔ امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایاگیا، مگر جنگ بندی برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیاگیا۔۔۔۔۔9 مئی۔ سعودی عرب نے آپریشن کےلئے اپنی سرزمین کو ایران کےخلاف استعمال کرنے سے امریکہ کو منع کردیا اور بڑا انکار کیا۔۔۔۔11 مئی۔ ٹرمپ کی ایک اور دھمکی، جنگ بندی وینٹی لیٹر پر ۔پاکستان کی خفیہ سفارتکاری جاری، اعتماد فقط پاکستان پر، ایران کا اعلان ۔ہم ہرصورتحال کےلئے تیار ۔ ۔۔۔۔13 مئی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا خفیہ دورئہ یو اے ای ۔۔۔۔۔۔14 مئی۔ ٹرمپ کا دورئہ چین۔ کوئی بڑا معاہدہ نہ ہوا۔ امریکی صدر مایوس لوٹے اور امریکہ پہنچ کر 17مئی کو ایران کو اور ایک اور دھمکی دیدی ۔ 19 مئی کو چین نے رد عمل دیا اب کوئی جنگ قابل قبول نہیں۔ ۔۔۔22 مئی۔ آرمی چیف تہران گئے۔ بڑی اور اہم ملاقاتیں۔ قطری وفد بھی ایران پہنچا ۔۔۔۔24 جون، وزیراعظم شہبازشریف کا دورئہ چین۔ آرمی چیف ایران سے بیجنگ پہنچے ۔ صدر شی سے ملاقات ۔ ۔۔۔۔۔25 مئی۔ عیدالاضحی سے قبل امریکہ کا بندرعباس پر حملہ، ایران کا جواب ۔ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔۔۔۔۔26مئی۔ اسرائیل کو تسلیم کرانے کےلئے امریکہ کا بیان۔ سعودی عرب اور پاکستان کا دوٹوک جواب۔۔۔۔۔30 مئی ۔ایران نے امریکہ کو خیانت کار اور سفارتکاری میں جھوٹا قرار دیا۔۔۔۔۔یکم جون۔ اسرائیل نے لبنان کے اہم پہاڑی سلسلے اور بیوفیورٹ قلعہ پر قبضہ کیا ۔۔ اسی روز امریکہ ایران خفیہ مذاکرات معطل کردیئے گئے ۔۔۔۔۔03 جون کو پھر پاکستان سمیت دیگر ملکو ں کی کاوشوں سے مذاکرات شروع ہوئے ۔-5 جون ۔۔ اب ایران پردوبارہ جنگ نہیں کرونگا، ٹرمپ کا اعلان۔۔۔۔۔07جون کو محسن نقوی تہران پہنچے ، خصوصی پیغامات اور خفیہ خطوط کیساتھ 09 جون کو لبنانی آرمی چیف پاکستان آئے ۔۔۔۔۔10 جون ۔ پھر امریکی صدر کی کی دھمکی پر ایران کا دوٹوک جواب ۔۔۔11 جون کو ٹرمپ نے یوٹرن لیتے ہوئے حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا اور 1 ہفتے میں یورپ میں معاہدے کا بھی اعلان کیا۔۔۔۔14 جون کوامریکہ ، ایران میں مفاہمتی یادداشت پر اتفاق رائے کرانے میں پاکستان کامیاب ہوا۔ اور 15 جون کو 14نکات کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں
