تحریر انتظار حیدری

دو روز قبل وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کچھ دل کی باتیں یا بقول ان کے سیاسی باتیں کی، انہوںنے فرمایا کہ نظام نہیں چل رہا، ہم دس سال بعد بھی انہی مسائل پر بحث کررہے ہونگے ، نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کو بھی انہوںنے لازم قرار دیا ۔ ان کی باتیں یقیناً اہمیت کی حامل ہیں مگر کچھ ایسے مسائل ہیں جن کی جانب متوجہ کرنا اور وجہ تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر یہ نظام نہیں چل رہا تو اصل خرابی کہاں ہے ؟
دراصل ہم پہلے ٹوڈی کے مسلسل 70 سال سے تجربے کرچکے ہیں یعنی ڈیموکریسی اور ڈکٹیٹرشپ، جمہوریت اور آمریت کے اس کھیل میں ایک دوسرے کو لتاڑتے رہے یہاں تک کہ آدھا ملک گنوادیا ایسا اس لئے ہوا کہ ہم آزادی کے 24 سال تک کسی ایک آئین پر ہی متفق نہ ہوپائے اور آخر کار ایک بڑے نقصان کے بعد 73ءکے آئین پر نہ شب و روز کی محنت کے بعد اتفاق رائے قائم کیاگیا مگر پھر جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید سے کچھ سیاسی غلطیاں ہوئیں جن سے ان کے حریف اور حلیف سب کو کچھ شکایات تھیں اور اس کا نتیجہ جنرل ضیاءالحق کی طویل آمریت اور بھٹو صاحب کی پھانسی کی صورت میں نکلااور اسی ملک کی تاریخ میں پھر ایک طرف آئی جے آئی اور دوسری طرف ایم آر ڈی تحاریک بھی چلیں ، ضیاءصاحب کا اقتدار ایک ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ہوا تو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نوازشریف کی لڑائی میں ایک دہائی گزر گئی اور کرسی اقتدار کے حصول کی اس جنگ میں ملک مسلسل تجربات ہی کرتارہا جس کے معاشی نقصانات الگ جبکہ اس کے سماجی مسائل بھی مستقبل میں عوام نے دیکھے کیونکہ یہ لڑائی فقط سیاست تک محدود نہ ر ہی بلکہ اس انداز میں ایک دوسرے کی سیاسی مخالفت،مقدمات، الزام تراشیاں اور بہتان بازیاں کی گئیں شائد وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا البتہ ان دو جماعتوں کو اس وقت ہوش آیا جب 99ءمیں میاں نوازشریف کی حکومت کا اختتام ہوچکا تھا ، انہیں پہلے اٹک جیل پھر جدہ جانا پڑا اور مسلم لیگ ن کی جگہ مسلم لیگ ق لے چکی تھی دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو پہلے ہی جلاوطنی کاٹ کررہی تھیں اور آخر کار لندن میں دونوں بڑے سیاسی رہنماﺅں کی ملاقات ہوئی اور طویل مشاورت کے بعد میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے اور دونوں نے وطن واپس آکر سیاست کا فیصلہ کیا دوسری طرف عدلیہ بحالی تحریک زوروں پر تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو کی عوامی جلسہ میں شرکت کے بعد راولپنڈی میں ایک دہشت گرد حملے میں شہادت کے بعد انتخابات ہوئے تو پیپلزپارٹی مخلوط حکومت کیساتھ اقتدار میں آچکی تھی مگر ن لیگ کیساتھ زیادہ دیر یہ اتحاد برقرار نہ رہا تو پھر زرداری اور نوازشریف آمنے سامنے تھے ابھی یہ سیاسی کشیدگی چل رہی تھی کہ مولانا طاہر القادری سیاست نہیں ریاست بچاﺅ کے نعرے کیساتھ وفاقی دارالحکومت کی جانب چل پڑے، وہ بڑھتے بڑھتے جناح ایونیو پر پہنچے کہ پیپلزپارٹی نے انہیں خیرو عافیت اور دعائیں لے کر رخصت کردیا اور پھر 2013ءکے انتخابات میں ن لیگ ایک بار پھر حکمران جماعت کے طور پر سامنے آئی اور میاں نوازشریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے ، پیپلزپارٹی دوسری بڑی پارٹی جبکہ پی ٹی آئی پہلی بار ایک بڑی تعداد کیساتھ قومی اسمبلی ، خیبرپختونخواہ میں بھاری اکثریت کیساتھ ابھر کر سامنے آئی مگر پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے حلقوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا اور آخرکار پھر عمران خان اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کیساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کررہے تھے۔ ملکی تاریخ کے سب سے طویل ترین ڈی چوک کے دھرنے کا اختتام بالآخر سانحہ اے پی ایس کے ساتھ ہوا ، پیپلزپارٹی نے اس دوران جمہوریت بچانے کیلئے گلے شکوﺅں کے باوجود ن لیگ کا ساتھ دیا لیکن پاناما ہنگامہ نے میاں نوازشریف کا اقتدار ختم کردیا اور میاں نوازشریف مجھے کیوں نکالا کے واویلا کیساتھ اسلام آباد سے لاہور تک ایک احتجاجی مارچ کی صورت میں گئے اور آخری سوا سال شاہد خاقان عباسی وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے اور پھر 2017ءکے الیکشن عمران خان برسر اقتدار آچکے تھے، ایک صفحے کی حکومت تھی، معاملات بہتر چل رہے تھے مگر ابھی تین سال کا عرصہ گزرا کہ معاملات بگڑ گئے حالانکہ اس سے قبل مثبت رپورٹنگ کے احکامات جاری ہوچکے تھے ، پیکا ایکٹ کے نفاذ کا اعلان ہوچکا تھا بہرحال مولانافضل الرحمن ایک بڑے لانگ مارچ کیساتھ اسلام آباد پہنچے مولانا کی للکار کیساتھ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی توانا پکار تھی اور یہ یلغار پی ٹی آئی اقتدار بہاکر لے گئی اور عمران خان اپنی حکومت بچانے کےلئے پریڈ گراﺅنڈ پہنچے ، سائفر لہرایا، بتایاکہ ان کی حکومت امریکہ ختم کرنا چاہتاہے، عارف علوی صدر مملکت تھے کوشاں رہے کہ اقتدار بچ جائے مگر ہونی کو کون ٹالے، دوسری طرف بلاول ایک لانگ مارچ کیساتھ اسلام آبا د میں تھے کہ اسی روز تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ہوا اور پھر خاں صاحب بھی اقتدار سے الگ ہوئے ، پی ڈی ایم اتحاد نے حکومتی باگ ڈور سنبھالی اور باقی ماندہ مدت پوری کی پھر 9ماہ بعد الیکشن ہوئے تو ن لیگ وفاق کیساتھ پنجاب میں بھاری اکثریت کیساتھ پھر وارد ہوئی، پی ٹی آئی کے حصے میں خیبرپختونخواہ جبکہ سندھ پر پیپلزپارٹی کا ہی راج کی مقدر تھا ، مولانا ان نتائج سے سخت نالاں ہوئے البتہ اب ایک ہائبرڈ سسٹم نافذ ہوچکا تھا اور اس کااعلان وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک سیاسی بیان کے ذریعے کردیا البتہ آج محسن نقوی اس موجودہ سسٹم کو بھی ناکام قرار دیتے ہیں۔
یہ مختصر ترین تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اصل وجہ کیا ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام آزمائے گئے، آمریت آزمائی گئی، ہائبرڈ سسٹم آزمایاگیا، ٹیکنو کریٹس آزمائے گئے مگر اس کے باوجود ہم آگے نہیں بڑھ پارہے ،ملک میں نیشنل ایکشن پلان نافذ کیاگیا، پیغا م پاکستان کا اعلان کیاگیا ، مثبت رپورٹنگ کیساتھ سخت ترین مانیٹرنگ کےلئے پیکا ایکٹ بھی نافذ کیاگیا مگر پھر بھی کیوں مقاصد حاصل نہیں کرپارہے اور سب اچھا نہیں تو وجہ کیا ہے؟ جان کی امان پاﺅں تو کچھ عرض کرنا چاہونگا
جناب والا اصل خرابی یہ ہے کہ آئین جس پر عملدرآمد کیا جانا چاہیے تھا جو بالادست تھا مگر اس میں ہر دور میں ترامیم کی جاتی رہیں، آج تک 27 ترامیم کی جاچکیں مگر اس کے باوجود صوتحال جوں کی توں ۔ تو ہاتھ باندھ کر گزارش ہے فقط ایک بار صحیح معنوں میں آئین پر عملدرآمد کرادیں، فقط اک بار عوام کو بنیادی شہری حقوق کےلئے کمربستہ ہوجائیں، فقط اک بار غیر جانبدار شفاف انتخابات کی راہ ہموار کریں ، فقط اک بار بلدیاتی انتخابات اختیارات کیساتھ منعقد کرائیں، فقط اک بار آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کو صحیح معنوں میں انصاف کی جانب راغب کریں آزادی کیساتھ انہیں تحفظ فراہم کریں، فقط اک بار جو اخبار میں اشتہار آئے اس کے مطابق میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں، فقط اک بار بڑھتی آبادی کے کنٹرول کےلئے فیملی پلاننگ کو لاگو کرائیں، فقط اک بار فرقہ پرستوں کو آہنی ہاتھوں سے روکیں، فقط اک بار ہر معاملے پر قومی مفاد ، ملکی یکجہتی کو ترجیح دیں ،فقط اک بار اپنے ملک کے چھوٹے زمیندار، چھوٹے کاشتکار، چھوٹے بزنس مین، مزدور، طالب علم ، عام فرد سے رائے لیجیے ، فقط اک بار آئی ایم ایف کی نہ مانیں، فقط اک بار عالمی بینک کی نہ مانیں، فقط اک بار عالمی برادری کی سننے کی بجائے اپنا مقدمہ پیش کریں ۔ یقین مانیں کاکروچ اٹھیں گے نہ یوتھ فرسٹریشن کا شکار ہوگی ، یقین مانیں پاکستان نہ صرف آگے بڑھے گا بلکہ یہ نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوجائیگا، پاکستان ایشیئن ٹائیگر بنے گا ، تیزی سے ترقی کرنیوالے ملکوں میں شمار ہوگا ، یقین نہ آئے تو ایک بار فقط اک بار یہ اصول اپنا کر دیکھیں ۔ پاکستانی وہ قوم ہے جس نے ہر مشکل وقت میں اپنے وطن اپنی ریاست کا ساتھ دیا چاہے 47ءمیں لٹے پھٹے قافلوں کی آمد ہو، انڈین جارحیت ہو، 65ءکی جنگ ہو یا سقوط ڈھاکہ، ایٹمی تجربوں کے بعد سخت ترین پابندیاں ہوں یا نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی طویل جنگ ۔ زلزلے کی تباہ کاریاں ہوں یا سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل، یہاں تک کہ معرکہ حق میں اپنی مسلح افواج کیساتھ شانہ بشانہ جنگ کی تازہ ترین مثالیں سامنے ہیں ، عوام ہمیشہ اپنی ریاست کیساتھ کھڑے ہوئے ہیں یہ قوم کبھی مایوس نہیں کرے گی محسن نقوی صاحب اک بار فقط اک بار ان سے سنئے وہ کیا چاہتے ہیں ۔
