A crowd attends the start of the dayslong funeral ceremonies at the Imam Khomeini Mosalla Grand Mosque in Tehran, Iran, Saturday, July 4, 2026. (AP Photo/Altaf Qadri)
تحریر انتظار حیدری

کہتے ہیں ناں کہ ”گل ویلے دی پھل موسم دا“ یعنی بات وہ جو وقت پر کہی جائے اورتازہ پھل جو موسم کی فصل کے طور پر اترے۔ یہی اصول ایران نے اپنایا 28 فروری 2026ءکوامریکہ اور اسرائیل نے مل کر جارحیت کی اور ایران کی سویلین آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے میناب سکول کے بچوں ، اہم شخصیات خصوصاً شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ان کے خانوادے کو شہید کردیا شہداءمیں کم سن نواسی بھی شامل ہے۔ ایران نے پہلے اپنے دشمن کو لمبی جنگ کے ذریعے نہ صرف تھکادیا بلکہ اسے ایسا پھنسا دیا کہ امریکی ایئر فورس کے اعلیٰ تربیت یافتہ پائلٹس بھی جدید ترین لڑاکا طیاروں میں سوار ہونے سے ہچکچانے لگے، دوسری طرف مہنگے ترین ہتھیاروں، آئرن ڈومز جیسے مہنگے ترین دفاعی حصارو ں کے مقابلے کےلئے ایران نے کم قیمت میزائلو ں ، ڈرونرز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے دفاعی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے جنگ کو طول دیا یہاں تک کہ امریکی نقصانات نہ صرف کھربوں تک پہنچے بلکہ خطے میں اس کے فوجی اڈوں کو ناقابل تلافی نقصان، خطے اتحادی ممالک کی معیشتوں سمیت 70فیصد دنیا کی معیشت کو ایسا جھٹکا ایران نے دیا کہ بالآخر امریکی صدر جنگ کے 40ویں دن مذاکرات کی میز پرمنتوں ترلوں سے نہ صرف آئے بلکہ امن کےلئے بار بار ایران کو پیغامات بھجوائے۔ بلاشبہ ایران کا سویلین نقصان کم نہ تھا مگر یہ وہ ایران تھا جس نے صدام حکومت کی امریکی پشت پناہی کیساتھ8 سالہ جنگ اور 47 سال کی پابندیاں برداشت کیں مگر نہ جھکا اور نہ ہی اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ اسی ایران نے اپنے شہید رہبر کے جنازے کےلئے گل ویلے دی کے مطابق مناسب وقت کا انتظار کیا کہ جب پاکستان، قطر اور عمان کی کوششوں اور ثالثی سے اسلام آباد ایم او یو پر دستخط ہوئے، 14نکات جوکہ امریکی سرینڈر کی دستاویز ہے اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف نے دستخط کئے اور اس کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشییع جنازہ کے شیڈول کا اعلان کیا ۔ یہ وفقط اعلان نہیں تھا بلکہ طویل ترین مشاورت کے بعد وہ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی وار تھا جو امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے برداشت نہ ہوسکا۔ ایران نے وہ اہداف حاصل کئے جن پر 47 سال سے پراپیگنڈہ کیا جارہا تھا ۔ پہلا پراپیگنڈہ یہ تھا کہ ایران ایک دہشت گرد ، انتہاءپسند ریاست ہے جو اپنے نظریات کے حصول کےلئے اور توسیع کےلئے کسی بھی حد تک جاسکتاہے اس کو اس رسم تعزیت نے ایسے مسترد کردیا کہ امریکہ کے روکنے کے باوجود100 کے قریب ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی جن میں وزیراعظم میاں شہبازشریف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ،سپیکر سردار ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی سمیت اعلیٰ حکومتی وفد ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی، چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجا ناصر عباس، سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، سربراہ امت واحدہ علامہ سید جواد نقوی۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، اہل سنت بریلوی مکتبہ فکر کے جید عالم دین و سربراہ جماعت اہل حرم پاکستان علامہ مولانا گلزار احمد نعیمی، آصف لقمان قاضی، علامہ شہنشاہ نقوی سمیت دیگر علماءپر مشتمل پاکستان علماءکا بڑا وفد، سعودی حکومت، عمانی حکومت، قطری حکومت، مصری حکومت کے اعلیٰ ترین وفود ، کویت، امارات کے شرکائ، عراق کی جید شخصیات سمیت عیسائی، سکھ، ہندواور یہودی مذاہب کی بڑی شخصیات سمیت50ہزار کے قریب بین الاقوامی شخصیات اور 2کروڑ سے زائد عوام الناس نے شرکت کی اور اس طرح پہلا پراپیگنڈہ ناکام ہوگیا کہ ایران دہشت گرد یا کوئی توسیع پسندانہ عزائم رکھتاہے ۔ایران نے سفارتی لحاظ سے کامیابی اور امریکہ کی ناکامی اس طرح سے عیاں ہوئی کہ ایران نے جن ممالک یا ان کے وفود کو مدعو کیا ماسوائے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سب نے اس دعوت کو قبول کیا اور امریکی وزیر خارجہ کے پیغامات اور ٹیلیفونک کالز سمیت دیگر ذرائع کو مہمانوں نے مسترد کردیا ، امریکہ نے تیسرا حربہ اختیار کیا کہ لوگ زیادہ شریک نہ ہوں کشیدگی بڑھائی مگر اس کے باوجود2کروڑ سے زائد عوام دنیا بھر سے پہنچی اور شہید رہبر اور مظلومیت کےساتھ اپنی وابستگی کا اظہار اکیا اور ایران نے نہ صرف اسے ایران تک محدود رکھا بلکہ تہران سے قم اور پھر عراق کے دو روحانی اور بڑے مذہبی مراکز نجف اشرف اور کربلا معلی میں نماز جنازہ کے کامیاب انعقاد سے ثابت کردیا کہ خطے میں سب سے زیادہ اثرو رسوخ ، سب سے زیادہ عزت،سب سے زیادہ اعتبار اگر کسی نے بنایاتووہ ٹرمپ یا ان کی انتظامیہ نہیں بلکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی مظلومیت نے بنایا جسے وہ تنہا کرنے کی کاوشو ں میں تھا۔ اطلاعات کے مطابق نجف و کربلا میں جلوس میں 27لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جو عراق کے مختلف حصوں سے تشییع جنازہ میں شرکت کےلئے آئے تھے۔ ایران نے امریکہ کا چوتھا پراپیگنڈہ یہ مسترد کردیا کہ وہ یہ باور کرانے کی کوشش کررہا تھا کہ نظام ولایت فقیہ ختم شد اور اب نیا نظام نافذ ہونے کو ،عوام ان سے تنگ آچکے مگر آج تہران سے قم ، اصفہان سے مشہد و شیراز تک ہر طرف لوگ سڑکوں پر موجود اور اس نظام کےساتھ اپنی وابستگی کا ایسا اظہار کررہے ہیں کہ ٹرمپ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ معلوم نہیں تھا کہ لوگ اس حدح تک آیت اللہ علی خامنہ ای سے محبت کرتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ کہ ایران نے فروری سے جولائی تک بہترین حکمت عملی، استقامت، جرات ، صبر و حوصلے اور بہادری کیساتھ واضح کردیا کہ اس مڈل ایسٹ میں اگر کوئی طاقت ور ملک ہے تو وہ ایران ہے اور خطے کی سیکورٹی کا ضامن امریکہ نہیں بلکہ ایران ہے اور اس تمام صورتحال نے امریکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو نہ صرف مایوس کردیا بلکہ اب وہ پچھتاوے اور اپنے احساس ندامت کو چھپانے کےلئے ایک بار پھر کشیدگی کو ہوا دے رہاہے یہ تاریخ سے ثابت ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جس بھی خطے میں گئے وہاں عد م استحکام آیا اب استعماری قوتیں نئی سازشوں اور نئے جالوں کیساتھ میدان میں اتریں گی اور ہمیشہ سے ان کا محبوب کام یعنی عوام کو عوام سے لڑانا ہے اور اب ان نئی سازشوں سے مختلف قومیتوں، فرقوں اور اتحاد کی سازشوں کو پارہ پارہ کرنے کی تیاریاں کی جاری ہیں لہٰذا آنکھیں، کان نہ صرف کھلے رکھنے چاہئیں بلکہ ان سے محتاط رہ کر اگے بڑھنے کا مزید حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خطے میں پہلے پاکستان کا انڈیا کو شکست دینا اور پھر ایران کا امریکہ جیسی طاقت کو پچھاڑنا غیر معمولی نوعیت کے اقدامات ہیں ، سمجھ لیں جو بھی فرقہ واریت سمیت دیگر عوامل کو ہوا دے گا وہ استعمار کا آلہ کار ہی ہوگااور ان سے خبردار رہنا ہوگا۔
