تحریر:۔ رزاق کٹھی

صدر ٹرمپ بھی برا پھنس گیا ہے، چند گھنٹے پہلے ایران کو کچا چبانے کی دھمکیاں دے رہا تھا، پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کیا ہے کہ ” قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بادشاہوں نے درخواست کی ہے کہ ایران سے دوبارہ جنگ شروع نہ کی جائے کیونکہ مذاکرات سنجیدہ مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ بیان کے مطابق “ان عظیم رہنماؤں اور اتحادیوں کی رائے میں ایک معاہدہ طے پا جائے گا، جو امریکا کے لیے، اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک اور اس سے آگے کے خطے کے لیے بھی نہایت قابلِ قبول ہوگا”
” ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ، خاص طور پر، اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے!”
امریکی صدر نے کہا کہ متعلقہ عہدیداروں کو کہہ دیا ہے کہ ہم ایران پر کل حملہ نہیں کریں گے۔ اور اگر قابل قبول معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم ایک لمحے کے بغیر ایران پر حملہ کردیں گے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کل منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، اور جنہوں نے کچھ دن پہلے شیئرز خریدے تھے وہ سستے ہوجائیں گے، اربوں ڈالر ایک اکاؤنٹ سے نکلیں گے اور دوسروں میں چلے جائیں گے۔ سارا منافع ٹرمپ کی انتخابی مہم پر انویسٹ کرنے والوں کو ہوگا۔
دوسری جانب پیر کو سعودی عرب پر عراق سے ڈرون حملے ہوئے جبکہ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات پر بھی حملہ ہوا، دونوں ممالک کو معلوم نہیں کہ کس نے حملے کیئے، حالانکہ یہ بات اب واضح ہوچکی ہے کہ اسرائیل نے ایران جنگ سے عرصہ پہلے عراق میں دو خفیہ اڈے قائم کیئے تھے، جہاں سے دو عرب ممالک پر حملے ہوچکے ہیں۔ امریکہ کو ان اڈوں کے بارے میں معلومات تھی، لیکن اس نے عراق کو نہیں بتائی، دو سال بعد ایک چرواہے نے اپنی فوج کو اس بارے میں اطلاع دی ۔
اب کی بار، اگر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ جنگ چھیڑی تو یہ بہت خوفناک ہوسکتی ہے، کیونکہ اس کے دو اہم پہلو ہیں، ایک خود ٹرمپ، دوسرا اسرائیل،
ایک دن پہلے، اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ سے آدھے گھنٹے تک بات کی، موضوع ایران تھا، جس میں ایران کو مکمل نیست و نابود کرنے کیلئے نیتن یاہو نے آخری حد تک اسے قائل کرنے کی کوشش کی، اس کی ابتدائی کامیابی کی ایک نشانی ٹرمپ کے ایران کو کچا چبانے والے بیانات تھے، جو چھتیس گھنٹوں میں سامنے آچکے ہیں، لیکن اس بار اچانک جنگ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ پاکستان کی نہیں بلکہ ان ممالک کی درخواست پر کیا گیا جن کے نام ٹرمپ نے اوپر بیان کیئے ہیں۔ ” ہماری ثالثی کا ظالم نے اس بار ذکر تک نہ کیا”
پاکستان کے وزیر داخلہ، محسن نقوی نے سفارتی محاذ بھی خود سنھبال لیا ہے ، تین دن سے ایران میں ہیں، مسلسل ملاقاتیں جاری ہیں، ان ملاقاتوں کے نتائج کیا ہونگے، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
لیکن ایران، جو دنیا کو یہ تاثر دینے میں مکمل کامیاب ہوچکا ہے کہ یہ جنگ اسرائیل یا امریکہ نے نہیں اس نے جیتی ہے، وہ ایک بار پھر سستے ہتھیاروں سے لڑنے کیلئے تیار ہے ۔ان کو مار گرانے کیلئے ایک بار پھر امریکہ اسرائیل کو لاکھوں ڈالرز کے درجنوں میزائل استعمال کرنے پڑیں گے ،جن کے ذخائر ختم ہورہے ہیں اور ایران کہتا ہے کہ وہ مزید چھ ماہ لڑ سکتا ہے۔
ایران کے پیچھے روس اور چین کھڑے ہیں، کیونکہ دونوں کے ایران کے ساتھ مفادات جڑے ہیں، سعودی عرب، عمان اور کچھ اور ممالک اس جنگ کا حصہ قطعی نہیں بننا چاہتے۔ عرب امارات کو اسرائیل کا تعلق گلے پڑ گیا ہے، اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو دبئی والے شیشے کے گھر کی باقی دیواروں پر بھی ایرانی ڈرون گریں گے، اس کا ” محفوظ” ہونے کا دعویٰ تحلیل ہوچکا ہے، سرمایہ دار اربوں ڈالرز نکال لے گئے ہیں ،خطے میں اس نے باقی عرب ممالک سے زیادہ خود کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔
صدر ٹرمپ جب تک اپنا منہ اور فون بند نہیں کرے گا اور کسی سنجیدہ شخص یا ٹیم کو ان مذاکرات میں شامل نہیں کرے گا تب تک دنیا میں سکون نہیں ہوگا۔
کیونکہ ٹرمپ اور اس کی ٹیم کو منہ کا بواسیر ہے، جس سے گند زیادہ ہورہا ہے جو وہ خود بھی سمیٹ نہیں پارہے۔ دنیا کی بڑی طاقت کے ووٹرز کے فیصلے کیسے دنیا کے گلے پڑتے ہیں، ٹرمپ، حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی مثال ہے۔
