تحریر:۔ انتظار حیدری

امریکہ ایران جنگ میں پاکستان کی درپردہ ثالثی کی کاوشیں جاری ہیں مگر کشیدگی میں بھی مسلسل اضافہ ہورہاہے، دوسری طرف پاکستان جسے ایک طرف معاشی مسائل کا سامناہے، یو اے ای جیسے دوست ملک کے سبب مشکلات میں کچھ اضافہ بھی ہورہاہے اور اب تک پاکستان صبر کیساتھ اسے برداشت کررہاہے مگر پاکستان کا ازلی دشمن انڈیا بھی تاک میں بیٹھا ہے ایک طرف افغان طالبان کی پراکسی کے ذریعے اور دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل پاکستان کے خلاف زہریلاپراپیگنڈہ کیا جارہاہے اور اس پر بس نہیں کہ سوشل میڈیا پر اب فرقہ وارانہ ذہنیت کے لوگ ایک دوسر ے پر دشنام طرازی پر اترچکے ہیں، کسی کو سعودیہ، امارات سے کسی کو ایران سے اور کسی کو ترکیہ سے مسائل ہیں اور انہیں اپنے اپنے فرقہ وارانہ رنگ سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ملکوں کے تعلقات کسی دین، کسی مسلک یا قومیت پر نہیں بلکہ خالصتاً مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں جب تک مفادات ہیں دوستیاں اور تعلقات آگے بڑھتے ہیں اور جیسے ہی مفادات کا ٹکراﺅ آتاہے تو یہ تعلقات دھڑام سے گرتے ہیں اور پبلک جھپک میں دشمنی میں بدلتے دیر نہیں لگتی ہمارے سامنے عراق اور امریکہ کے تعلقات ہیں، ایران، اسرائیل اور امریکہ زبردست تعلقات ہیں، روس اور ایران کی کشیدگی،عرب ممالک اور ترکیہ کی کشیدگی سمیت کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں جب امریکہ کے مفادات پر 1979ءمیں زد پڑی اور انقلاب اسلامی ایران نے اس کی جگہ لے لی تو یہ امریکہ و اسرائیل کا دشمن نمبر ون بن گیا، جب تک عراق میں صدام حکومت امریکی ایماءپر اقدامات اٹھاتی رہی تو وہ علاقے کا تھانیدار تھا مگر جسے نظریں پھریں مفادات کا ٹکراﺅ شروع ہوا تو کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے سے صدام آمریت کیساتھ عراق پر وہ جنگ مسلط کی گئی جس کے اثرات آج بھی عراقی عوام بھگت رہی ہے، افغانستان میں آج تک یہی ہورہاہے ، لیبیا اور مصر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں لہٰذا ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان ایک آزاد خود مختار مملکت ہے اور اس کے دنیا سے تعلقات اس کے مفادات کی بنیاد پر ہیں یہ کسی مسلکی ، مذہبی بنیاد پر نہیں ، مذہبی یا ثقافتی بنیادیں پل کا کردار ضرور ادا کرسکتی ہیں مگر وہ مفادات سے زیادہ عزیز نہیں ہوتیں مگر افسوس ہم کبھی یہاں بیٹھ کر ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات پر بحث کررہے ہوتے ہیں کبھی امارات، سعودیہ کی کشیدگی ۔ کبھی امارات، ایران ۔ انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات اور کشیدہ معاملات پر بحث کررہے ہوتے ہیں اور کبھی افغانستان کو اپنی مخصوص عینک کے نمبر سے دیکھنے کیساتھ وسط ایشیائی ریاستوں کے حوالے سے اپنے خیالی پلاﺅ بناکر انہیں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب تک ہمارے اپنے اندر یہ تفریق کا عنصر غالب رہے گا اس وقت تک ہم معاشرے میںتعمیری طور پر آگے بڑھ نہیں سکتے اور سچی بات یہ ہے یہ تفرق حکمرانوں کو بڑا بھاتا ہے کیونکہ تقسیم کرو اور حکومت کرو یہ بڑا زبردست ہتھیار رہا ہے تاکہ عوام کو مختلف قومیتوں،فرقوں، مذاہب کی لاحاصل بحثوں میں الجھائے رکھیں مگر انہیں ان کے بنیادی حقوق کی طرف ترغیب نہ پانے دیں کہ مبادہ یہ حقوق مانگے بیٹھ گئے تو پر شہ خرچیوں پر سوال آئے گا پھر لوگ مختلف بے جا ٹیکسوں پر بات کرینگے، پھر تعلیم و صحت کی بنیادی حقوق عدم فراہمی پر یکجان ہوجائینگے، انصاف نہ ملنے سے پریشان حال ایک ہوجائینگے پھر اگر کسی ملک سے 500 پاکستانی بھی جبری نکلیں گے تو دباﺅ آجائےگا جبکہ اصل حقائق یہ ہیں کہ اس وقت ملک میں 2کروڑ 50لاکھ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، 1 کروڑ کے قریب وہ طلباءہیں جو اپنی تعلیم جاری ہی نہیں رکھ پاتے اور میٹرک تک نہیں پہنچ پاتے اور اعلیٰ سطح پر صورتحال یہ ہے کہ پبلک سروس کمیشن میں بھی بیوروکریسی کی چالاکیاں شروع ہوچکی ہیں، میڈیکل کے طلباءاپنے داخلوں کےلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور ملک میں بے روزگاری کی شرح 7فیصد سے بڑھ چکی ہے فقط 2024-25ءمیں 59 لاکھ کے قریب پاکستانی بے روزگار تھے جن میں اضافہ ہوچکاہے یہ وہ تعداد ہے تو سینیٹ آف پاکستان میں پیش کی گئی ہے تو اندازہ لگالیں یہ شرح کہاں تک پہنچ چکی ہوگی۔ یہ ہیں ہمارے بنیادی مسائل مگر یہاں کسی کو ترکی، کسی کو امارات، کسی کو ایران، کسی کو سعودیہ کی پالیسیوں کی پڑی ہے۔ ارے بھئی امارات سمیت کئی ملکوں سے پاکستانی جبری طور پر بے دخل ہوئے ہیں ،پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی گئی اورسچی بات یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار بچانے کےلئے تاحال پاکستان صبر کے کڑوے گھونٹ پی رہاہے خدارا ایسی صورتحال میں تفرق اور تفرقے کو ہوا مت دیں عام پاکستانی مسلسل مشکل کا شکار ہے بات کرنی ہے تو اس پر کریں
