تحریر:۔ انتظار حیدری

جنگ بندی یا پھر جنگ کی نئی صف بندی ؟ چین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہاہے ،اس نے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ، اسرائیل کی ایران پر مسلط جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سمندری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیاہے، پاکستان کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ پراجیکٹ فریڈم سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور قبضے میں لیا گیا ایرانی جہاز اور عملہ پہلے ہی پاکستان کے حوالے کرکے اعتماد سازی بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے 10 مئی سے 12مئی کے دوران اسلام آباد پھر دنیا بھر کی نظروں کا مرکز بننے جارہاہے، پاکستان کے ذریعے ہی امریکی 14نکات بھی ایران کے حوالے کردیئے گئے ہیں مگر اس صورتحال میں امارات پر میزائل اور ڈرون حملے بھی ہوگئے لگتاہے کوئی نئی سازش تیار کی جارہی ہے، اب تک سابق امریکی صدور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھی ایران پر جنگ کےلئے نیتن یاہو ٹریپ کرتا رہا مگر ہم اسے دھتکارتے رہے ، گزشتہ روز کور کمانڈر کانفرنس کا بھی غیر معمولی اجلاس اور غیر معمولی اعلامیہ جاری ہواہے ۔زیارات کے بزنس سے منسلک افراد اور کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی ہیں جبکہ عام آدمی کی بے چینی میں اضافہ ہوگیاہے ۔اب اس کی تفصیلات کی جانب بڑھتے ہیں ۔
جنگ اب فقط میدان میں نہیں لڑی جارہی بلکہ معاشی اور داخلی طور پر بھی کچھ اقدامات ایسے ہورہے ہیں جو غیر معمولی ہیں مگر آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو ایک انٹرویو کی طرف متوجہ کرتاہوں گزشتہ روزمعروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے امریکی خارجہ و دفاعی امور کے ماہر سابق امریکی کرنل لارنس ول کرسن کا انٹرویو کیاہے جس میں انہوں نے انکشاف کیاہے کہ یہ جنگ فقط ایران تک نہیں بلکہ اس کا اصل نشانہ چین ہے کیونکہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ امریکہ اور اس کی عالمی تجارت کےلئے ایک چیلنج بن چکاتھا جس کےلئے ایک جال بچھانا لازم تھا تاکہ چین کی بڑھتی تجارت کو روکاجائے اور اس طرح کی طاقت کو کمزور کیا جائے ایران اور چین کے تعلقات انتہائی غیرمعمولی نوعیت کے ہیں کیونکہ چین وہ ملک ہے جو پابندیوں کے باوجود ایرانی پٹرولیم مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے تو دوسری طرف ایرانی انفراسٹرکچر تعمیر و ترقی میں بھی چینی کردار انتہائی غیر معمولی نوعیت کا ہے اور اس طرح کے اتحادی پر جنگ مسلط کرنا فقط ایران کی رجیم چینج کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ گیم چینج کرنے کا بھی بڑا منصوبہ تھا جس کے خلاف ایران اب تک مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے ۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ دراصل روایتی سمندری تجارتی راستے کے مقابلے میں تیزترین اور مختصر ترین راستہ ہے جس سے چین نہ صرف خطے بلکہ تقریباً دنیاکے ہر کونے تک چند گھنٹو ں میں اپنی مصنوعات پہنچاسکتاہے اور اگر یہ صورتحال جاری رہی تو اس میں نہ صرف چین براہ راست شامل ہوگا بلکہ اس تنازعہ کے عالمی تجارت اور معیشت پر وہ اثرات مرتب ہونگے کہ اگست تک پوری دنیا ایک عالمی معاشی بحران کا سامنا کررہی ہوگی، ابھی جنگ کو ڈیڑھ ماہ گزرا ہے کہ پاکستان میں ہی دیکھ لیں لوگوں کی قوت خریدنہ صرف بری طرح متاثر ہوچکی ہے بلکہ مسلسل مہنگائی نے عام آدمی کو دو وقت کی روٹی کے حصول میں بھی مشکلات پیدا کردی ہیں پٹرولیم مصنوعات کی حالت یہ ہے کہ پورے خطے میں سب سے زیادہ مہنگا پٹرول پاکستانی عوام خرید رہی ہے مگر حکومت پھر بھی کہتی ہے کہ ہم عوامی ریلیف کےلئے یکسو ہیں۔ ماضی قریب میں سی پیک میں رکاوٹیں، ڈی آئی خان سے آگے سی پیک کا آگے نہ بڑھ سکنا، ڈی آئی خان سے کوئٹہ تک مختلف جگہوں پر انتشار، انتہاءپسندی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں کو بھی اس تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو پاکستان کی سلامتی کیساتھ ساتھ اس اہم ترین تجارتی روٹ اور اہم اقتصادی راہداری میں رکاوٹ ہیں اور اس میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کی ثالثی کی کاوشیں اور خاموش سفارتکاری جاری ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پہلے امریکہ کی طرف سے ایران کے قبضے میں لئے گئے جہاز اور عملے کو پاکستان کے حوالے کیاگیا اور اب امریکی صدر نے پراجیکٹ فریڈم کے منصوبے کو روک دیا ہے جبکہ 14نکات پر مشتمل مجوزہ معاہدے کی تجاویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی ہیں اور دوسری طرف ایران کی طرف سے بھی کچھ شرائط کو نرم کرکے بھجوایاگیا ہے مگر یہاں رکیے !!! ایک طرف یہ کاوشیں ہورہی ہیں تو دوسری طرف پھر امارات پر حملے کیوں ہوئے؟ یہ وہ سوال ہے جو اب بہت سی سازشوں کی طرف اشارہ کررہاہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایران کے نام پر اسرائیل کوئی اور کارروائی ڈال رہاہے یا پھر کسی پراکسی کے ذریعے حملے کروا کر انہیں روک رہاہے تاکہ امارات کو باور کرایا جاسکے کہ اس کا دفاع ہم کررہے ہیں اور ایران مسلسل خطرہ ہے اس لئے جنگ جاری رہنی چاہیے ، کیونکہ اب باراک اوبامہ جو سابق امریکی صدر ہیں ان کا بیان بھی سامنے آگیاہے کہ نیتن یاہو نے انہیں ٹریپ کرنے کی کوشش کی گئی آج لگتاہے کہ ٹرمپ کو پھنسانے کے بعد دھنسانے کی سازش کی جارہی ہے کیونکہ مذاکرات اور کشیدگی دونوں مساوی طور پر نہیں چل سکیں گے اسی صورتحال کا جواب ایرانی صدر کی جانب سے دیاگیا کہ ہم اللہ کے سامنے سرجھکانے کے بعد کسی اور کے سامنے نہیں جھکتے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ جامع اور منصفانہ امن تجاویز کے بغیر معاہدہ نہیں ہوسکے گا جبکہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سپیکر باقرقالیباف نے پھر کہہ دیا کہ دھمکی اور امن ساتھ نہیں چل سکتے۔ایسی صورتحال میں کور کمانڈر کانفرنس کا ہونا بھی غیر معمولی نوعیت کاہے کہ جس کا ایک غیر معمولی اعلامیہ جاری کیاگیا کہ خطے میں ذمہ دارانہ کردار نہ صرف جاری رہے گا بلکہ امن کا درومدار تحمل، خود مختاری کے احترام میں ہے جبکہ اعلامیہ میں معرکہ حق کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے قومی یکجہتی، عوام، حکومت اور افواج کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت قرار دیاگیاہے ۔
ادھر الجزیرہ کی جانب سے رپورٹ ہواہے کہ امریکہ چاہتاہے کہ پہلے ایرانی جوہری پروگرام پربات کا آغاز کیا جائے جبکہ ایران سمندری ناکہ بندی کا خاتمہ چاہتاہے یہ بھی امکان ہے کہ کسی ایک نکتے پراختلاف پیدا ہونے کی صورت میں پھر مختصر عرصے کی جنگ کا آغاز ہوسکتاہے مگر اس ساری صورتحال میں پاکستان سمیت دیگر ممالک جنگ بندی کیساتھ اب معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے کوشاں ہیں، چین کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کی بیجنگ موجودگی میں غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے ایران پر مسلط جنگ کو غیر قانونی قرار دیاگیاہے جبکہ ٹرمپ کے آئندہ ہفتے دورئہ چین سے قبل اسلام آباد میں مذاکرات ہونے کے امکانات بھی روشن ہورہے ہیں کچھ اطلاعات ہیں کہ 10 سے 12 مئی کے دوران اسلام آباد ایک مرتبہ پھر تمام دنیا کی نظروں کا مرکز ہوگا۔
