آبنائے ہرمز بند رہے گی، امریکا خلیج میں فوجی اڈے ختم کرے، مجتبیٰ خامنہ ای، تیل کے جہازوں کو سیکورٹی دینے سے امریکا کا انکار
جدہ ( مانیٹرنگ )ایران تنازع کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہو کیا اورسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ملاقات میں فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحق ڈار بھی موجود تھے وزیر اعظم نے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کیلئے نیک تمانوں کا اظہار، انہوں نے پاکستان کیلئے سعودیہ کی طویل المدتی حمایت پر گہری ستائش کا اظہار بھی کیا ، وزیر اعظم نے آزمائشی حالات میں سعودی عرب کی بھرپور حمایت اور مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کیا ،دونوں رہنماووں کے درمیان خطے میں حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، خطے امن و استحکام کے فروغ کیلئے مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے پر اتفاق ہوا،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا رہے گا، اور امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی،وزیر اعظم رات گئے دورہ مکمل کرکے وطن واپس آگئے،قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کیا،پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کی صورتحال پر تشویش ہے،وزیراعظم کا دورہ خطے میں امن سے متعلق امور پر رابطوں کا حصہ ، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں،،افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے،جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر پرنس سعود بن مشعل بن عبد العزیز ، ریاض میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق ، جدہ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات و سفارتکاری سے متعلق پاکستان کا اصولی موقف خطے کے تمام دارالحکومتوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اعتماد پاکستان کو مختلف متعلقہ دارالحکومتوں کے درمیان رابطے کا ایک موثر ذریعہ بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تنازع کے دوران پاکستان نے مسلسل متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تین بنیادی اصولوں پر کاربند رہیں جن میں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، ایک دوسرے کی سرزمین پر طاقت کے استعمال سے گریز اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری شامل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بحران کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی روابط کی بحالی پر بھی زور دے رہا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔ پاکستان۔افغان سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران مکمل احتیاط برتی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان شہریوں سے کوئی دشمنی نہیں اور وہ ہمارے بھائی بہن ہیں۔
دوسری جانب ایران پر وسیع اسرائیلی حملوں کی لہر جاری ‘ حزب اللہ کا اسرائیل پر بڑااٹیک ‘200راکٹ فائر ‘ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نشانہ‘ تہران کے عراق ‘ کویت اور امارات میں امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر حملے ‘امریکی شپ سمیت تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایاگیا‘دبئی کے مرکز میں دھماکے‘ عراقی شہر بصرہ میں بندرگاہ پرآئل ٹرمینلزآپریشن معطل ‘ بحرین میں تیل کے ٹینکوں میں آتشزدگی‘ کویت سمیت خلیجی ممالک میں عیدتقریبات اور مختلف پروگرامز منسوخ ‘ مشرقِ وسطیٰ کے سفر اور سیاحت کے شعبے کو یومیہ کم از کم600ملین ڈالرکا نقصان‘عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی‘ایران کے خلاف آپریشن میں شامل امریکا کے سب سے بڑے طیارہ بردارجہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں عملے کے دوافراد زخمی ہوگئے‘ ایرانی نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے کہا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نہیں بچھائیں‘امریکی وزیرتوانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیںجبکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا پہلا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران حملے جاری اورآبنائے ہرمز کو بند رکھے گا‘اسکول کے بچوں سمیت شہید ہونے والے تمام ایرانیوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا‘واشنگٹن خلیج میں اپنے فوجی اڈے ختم کرے ‘اگرایسانہ ہواتو حملے جاری ر ہیں گے جبکہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے نفع بخش ہے‘ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ وہ روس اور پاکستان کے صدور سے رابطے میں ہیں۔اسرائیلی فوج نے ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر بیروت کے جنوبی علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا‘اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف ’وسیع پیمانے پر حملوں کی لہر کا آغاز کر دیا ہےجبکہ حزب اللہ نے اسرائیل پر 200راکٹ داغ دیئے ہیں جسے اس جنگ کا اب تک کا “سب سے بڑا حملہ” قرار دیا جا رہا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق اس نے اسرائیل کے وسطی شہر قیصریہ کے قریب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے‘یہ وہی علاقہ ہے جہاں وزیراعظم نیتن یاہوکی نجی رہائش گاہ واقع ہے‘ ایران نے امریکی شپ سمیت تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایاہے ‘ پاسدارانِ انقلاب نے عراق‘ کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات اوراڈوںکو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیاہے ‘اے ایف پی کے مطابق دبئی کے مرکز میں دھماکے سنے گئے ہیں۔ عراقی شہر بصرہ کی بندرگاہ کے قریب دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز پر آپریشن روک دیا گیا۔ عملے کے زیادہ تر افراد کو بچا لیا گیا تاہم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔بحرین میں ایران کے حملے کے بعد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تیل اور ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔پاسداران انقلاب کاکہنا ہےکہ انہوں نے خلیج میں ایک امریکی جہاز پر حملہ کیا ہے۔فارس نیوزکے مطابق عراقی پانیوں میں بصرہ کے قریب دو تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے ایک سیف سی وشنو ہے جس کی ملکیت امریکا کے پاس ہے اور اور دوسرا مارشل آئی لینڈز کے پرچم کے تحت چلتا ہے۔ایران کی جانب سے مسلسل حملوں کے نتیجے میں کویت سمیت خلیجی ممالک میں عیدتقریبات اورمختلف پروگرامز منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
بشکریہ جنگ
