اصل فاتح وہ جو مذاکرات کے بعد بھی جنگ کی تیاری رکھے، ایران کا بڑا پیغام
اب بھی جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں، امریکی وزیر دفاع کا رد عمل
امریکہ ایران کشیدگی کے دوران پس پردہ مذاکرات کی کاوشوں کے نتیجے میں دونوں جانب کسی حد تک اتفاق رائے نظر آرہاہے جس کی ایک جھلک امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے اعلان کی صورت میں نظر آرہی ہے دوسری طرف اپنے نپے تلے انداز میں ٹویٹ سے باقر قالیباف نے بھی واضح کردیا کہ اگر کوئی حملہ نہیں کیا جاتا تو ایران کی جانب سے جواب نہیں دیا جائیگا مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے رعایتیں نہیں مانگتا بلکہ میزائلوں کے ذریعے دشمن کو سمجھاتاہے ،ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف جوکہ ایرانی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران پر کوئی حملہ نہ ہوا تو وہ جواب نہیں دے گا البتہ آخر میں یہ بھی واضح کردیا کہ اصل میں فاتح وہ ہوتاہے جو مذاکرات کے بعد بھی جنگ کیلئے تیار ہو اور ایران اس حوالے سے مکمل طور پر آمادہ ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ جسے بین الاقوامی اداروں نے بھی رپورٹ کیا کہ مذاکراتی معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کرے۔ٹرمپ کا کہناتھاکہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو زمین سے باہر نکال کر تلف کر دیا جائے گا جب کہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے ہتھیاروں کے استعمال سے دشمن کو سمجھاتے ہیں۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں امریکہ کو دہشت گرد ریاست کہتے ہوئے یہ کہاگیا کہ امریکی صدر کے بیان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے، اگر ایسا کوئی اقدام ہوتاہے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی محض روکنے کی مثال کے مترادف سمجھا جائےگا کیونکہ روز اول سے یہ ناکہ بندی ہونی ہی نہیں چاہیے تھی ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی گئی کہ جوہری توانائی کے معاملے پر امریکی صدراور امریکی میڈیا کے دعوے بے بنیاد ہیں اس تناظر میں جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، منجمد اثاثوں کی بحالی نہ ہونا واشنگٹن کی سنجیدگی کے حوالے سے ایران کے شکوک و شبہات کو مزید بڑھاتاہے، کسی بھی معاملے پر یا معاہدے تک پہنچنے سے پہلے ان اثاثوں کی بحالی لازمی ہے اور اس کی حیثیت کا واضح ہونا لازم ہے۔ اس واضح اور دوٹوک موقف کے بعد ایک مرتبہ پھر امریکی دھمکی سامنے آئی اور امریکی وزیر دفاع نے کہاکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ سنگاپور کانفرنس میں انہوںنے ایشیا میں اپنے اتحادیوں کو اسلحہ خریدنے اور دفاعی بجٹ کے اضافے کا مشورہ دیتے ہوئے چین پر بھی تنقید کی البتہ ساتھ ہی یہ کہاکہ وہ چین کیساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتے۔
