بڑے پراجیکٹ پر کام شروع، دسمبر تک مکمل ہوگا
چوہڑ چوک تا کچہری اب ٹریفک جام کا مسئلہ مستقل حل کرنے کا منصوبہ
راولپنڈی۔راولپنڈی شہر کو سگنل فری کوریڈور بنانے کے مقصد کے تحت اپنے سڑکوں کے نیٹ ورک میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا تازہ ترین منصوبہ پشاور روڈ پر تین انڈر پاسز کی تعمیر ہے۔ پراجیکٹ کو ریکارڈ مدت میں مکمل کرنے کے ہدف کے ساتھ عوام کو ٹریفک کا ہموار تجربہ فراہم کرنے کے لیے تعمیر کا کام بے مثال رفتار کے ساتھ شروع ہوا ہے۔راولپنڈی نے پچھلے چند سالوں میں کافی توسیع کی ہے اور اسے پاکستان کے 5 سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں شامل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہیوی ٹریفک کئی کنورجنٹ پوائنٹس پر کافی دباﺅ ہوتا ہے جس کےلئے نہ صرف ٹریفک متاثر بلکہ عام آدمی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پشاور روڈ پر تین یکے بعد دیگرے انڈر پاسز بنانے کا منصوبہ شروع کیا پشاور روڈ پر تین انڈر پاسز کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جس پر تقریباً 8.36 ارب روپے لاگت آنے کی توقع ہے۔ منصوبے کے شمال میں ہونے کی وجہ سے یہ قاسم مارکیٹ اور پشاور روڈ کے چوراہے پر واقع ہے۔ انڈر پاس ایم ایچ ہسپتال سے ملحقہ چوک سے شروع ہوگا۔ صدر اور راولپنڈی کنٹونمنٹ سے آنے والی زیادہ ٹریفک کی وجہ سے اس چوک کو اکثر ٹریفک جام کا سامنا رہتا ہے دوسرا قبرستان چوک،یہ چوک آرمی قبرستان کے قریب واقع ہے اور اس علاقے سے تجارتی اور رہائشی مراکز سے ٹریفک آتا ہے جو پھر ریس کورس کے علاقے کی طرف بڑھتا ہے تیسرا اہم پوائنٹ چیئرنگ کراس چوک پر راولپنڈی کنٹونمنٹ کے تجارتی علاقوں سے بڑی شہری ٹریفک جو ؒ اسے جی ٹی روڈ کیساتھ جوڑتی ہے یہ سڑک ویسٹریج کے قریب واقع ہے جس سے رہائشی علاقوں کی ٹریفک بھی اس مین شاہراہ میں شامل ہوتی ہے ۔ اس ٹریفک رش اور آئے روز ٹریفک جام کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کےلئے پنجاب حکومت نے ان تینوں اہم پوائنٹس پر تین بڑے انڈرپاسزبنانے کا آغاز کیا اور اب یہ کام تیز رفتاری کیساتھ جاری ہے امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ دسمبر یا پھر زیادہ سے زیادہ فروری 2027ءتک ان پراجیکٹس کو مکمل کرلیا جائےگا ۔ شہریوں کی سہولت کےلئے متبادل روٹس بھی کھولے گئے ہیں جن میں صدر سے آنیوالی ٹریفک چوہڑ چوک سے قبل سنگل وے جبکہ موٹروے کی جانب سے آنیوالی ٹریفک سروس روڈ استعمال کرے گی۔
