(انقلاب اسلامی ایران کی سنتالیسویں سالگرہ کی مناسبت سے)
حیدر علی استوری
انقلاب اسلامی ایران (۱۹۷۹) ایک تاریخی اور عالمی اہمیت کا حامل واقعہ تھا جس نے صرف ایران کی سیاسی اور سماجی صورتحال کو تبدیل نہیں کیا بلکہ پوری اسلامی دنیا کے سیاسی اور فکری منظرنامے پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ حضرت آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں یہ انقلاب عوامی بے چینی ، آمریت کے خلاف مزاحمت اور دینی بصیرت کا امتزاج تھا۔ امام خمینی نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کی وحدت ان کی طاقت کے لیے بہت ضروری ہے۔ شیعہ اور سنی امت کے درمیان بھائی چارہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ انقلاب کی کامیابی دراصل اسلامی بیداری کا نتیجہ تھا ۔ امام خمینی کی حکمت عملی تھی کہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو کم کیا جائے تاکہ دشمن تقسیم کی بنیاد پر امت کو کمزور نہ کر سکیں۔ اس بصیرت نے نہ صرف ایران کے داخلی منظرنامے بلکہ اسلامی دنیا میں اتحاد اور یکجہتی کی تحریک کو فروغ دیااور اسلامی ممالک میں عوامی شعور اور اسلامی بیداری کے لیے ایک عملی ماڈل قائم کیا۔
اسلامی بیداری کے فروغ میں ایران نے فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ مرکزی حیثیت دی۔ حضرت امام خمینی نے فرمایا کہ یوم قدس ایک ایسا دن ہے جو مسلمانوں کو فلسطینی عوام کی مظلومیت کی یاد دہانی کراتا ہے اور امت کے اندر اتحاد و یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے۔اس دن امت مظلوم فلسطینیوں کی حمات میں سڑکوں پرآتی ہے۔امام خمینی کا ایک بڑ اکارنامہ ہفتہ وحدت کا بڑے پیمانے پر منایا جانا ہے۔لوگ بارہ اور سترہ رربیع الاول کو نبی رحمت کے یوم ولادت کی تاریخ کے اختلاف کو امت کے درمیان اختلاف کا ذریعہ بناتے تھے۔امام خمینی نے بڑی حکمت سے پورے ہفتے کو ہی منانے کا اعلان کیا اور اس کا نام ہفتہ وحدت رکھا۔یہ اقدام مسلمانوں کی باہمی قربت کا باعث بنا۔ یہی پالیسی ایران کے موجوہ رہبر اعلی نے بھی جاری رکھی ہوئی ہے آپ نے فرمایا:وحدت اسلامی ، صرف ایک نظریاتی ضرورت نہیں بلکہ عالمی مسائل کے حل اور مسلمانوں کی اجتماعی طاقت کے لیے عملی ضامن ہے۔ یہ اقدامات اسلامی بیداری کے نظریاتی اور عملی پہلو کو مستحکم کرتے ہیں اور دیگر مسلم ممالک کے عوام کو عالمی مسائل میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ امت میں وحدت کی فضا قائم ہو رہی ہے۔اسی طرح فلسطین جسے بھلا دیا گیا تھا پہلے امت کا پہلا مسئلہ بنا پھر وہی فلسطین دنیا کا پہلا مسئلہ بنا۔آج اہل فلسطین کا در اسی آگاہی اور شعور کی وجہ دے امت کو محسوس ہو رہا ہے۔یہی آگاہی ہے جو مسلمانوں کے قبلہ اول کو بین الاقوامی استعمار کو ہضم نہیں کرنے دیتی۔
وحدت اسلامی ایک عملی پہلو ہے آپ دیکھیں آج ایران کی دانشگاہوں میں بڑی تعداد میں بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے کورسسز پڑھائے جا رہے ہیں۔ایران میں دانشگاہ مذاہب میں تمام اسلامی مسالک ایک چھت کے نیچے پڑھائے جا رہے ہیں۔اس سے فکری طور پر ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے۔تمام مسالک کے مشترکات پر بڑے بڑے موسوغات تیار کیے جا رہے ہیں۔یوں وہ چند فیصد اختلافات جن کی نوعیت تاریخی اور فقہی ہے ان کی بنیاد مسلمانوں کو لڑایا جا رہا تھا ان کی جگہ مشرکات کو پرموٹ کیا جا رہا ہے۔تمام مسالک کے الگ الگ شعبہ جات ہیں اور وہاں پر اسی مسلک سے تعلق رکھنے والے اساتذہ پڑھا رہے ہیں۔یہی علما جب معاشرے میں جائیں گے تو لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں گے انہیں تمام اختلافات کی علمی بنیادوں کا علم ہو گا۔وہ اختلافات کی بجائے ان مشترکات پر بات کریں گے جو معاشرے کو جوڑے گا۔انقلاب کے بعد ایک بہت ہی اہم کام جو مسلسل کیا جا رہا ہے وہ عالم اسلام کے علما کی مسلسل ہونے والی کانفرنسز ہیں۔ان کانفرنسز میں دنیا بھر سے علمائے کرام شریک ہوتے ہیں اور امت کے اتحاد کے لیے تجاویز دیتے ہیں،اعلامیے جاری ہوتے ہیں اور مسائل کے حل کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔آج امت کے درمیان اتحاد اور وحدت کی فضا کو قائم کرنے میں یہ باہمی میل جول اہم کردار ادا کررہا ہے۔اس سے غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں اور اصل منابع سے ایک دوسرے کو جانا جا رہا ہے۔
انقلاب اسلامی ایران نے اسلامی بیداری کو سیاسی، فکری اور ثقافتی سطح پر مستحکم کیا۔ ایران کے تجربے نے یہ دکھایا کہ اسلامی اصول اور جدید سیاسی ضروریات کے درمیان توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ فلسطین، یوم قدس، ہفتہ وحدت اور اسلامی تعاون کانفرنسیں اس بیداری کو عملی شکل دینے کے اہم مظاہر ہیں۔ امام خمینی کے شیعہ و سنی اتحاد کے فرامین اور سید علی خامنہ ای کے اقوال اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسلامی وحدت نہ صرف نظریاتی ضرورت بلکہ عملی ضامن بھی ہے۔ یوں انقلاب اسلامی ایران ایک قومی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی اسلامی بیداری کے لیے مشعل راہ اور رہنمائی کا ذریعہ بن گیا، جس کے اثرات آج بھی مسلم دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
