کے پی صوبائی حکومت عوام پر عذاب کے مترادف، گورنر خیبرپختونخوا
صدر آصف زرداری مہمان نواز مگر حزب اختلاف ڈرامہ باز، پی ٹی آئی احتجاج کیا اپنی حکومت، اپنے لوگوں کے خلاف ہے؟ گورنر کا سوال
ڈرائی فروٹ سمیت کافی، چائے چل رہی، اپوزیشن کو اور کون سی بھوک، فیصل کریم کنڈی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اسلام آباد میں اپوزیشن اور صوبائی وزیر اعلی کے کابینہ ارکان کے احتجاج اور صوبے کی صورتحال پر صحافیوں کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک خصوصاً خیبرپختونخوا کی سیاسی و امن و امان کی صورتحال زیر غور آئی۔ دوران گفتگو صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا دیا تو کے پی ہاؤس تو خود صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے اور کے پی ہاؤس میں تو ساری سہولیات میسر ہیں ، جس طریقے سے انہوں نے دھرنا دیا کے پی ہاؤس گیٹ کے اوپر ہی بیٹھے ہیں اور وہ صبح آرام سے آجاتے ہیں رات کو کوئی نہیں ہوتا جب صبح اٹھتے ہیں آرام سے، نہا دھو کے ناشتے کرکے، فریش ہوکر پہنچ جاتے ہیں اور کچھ ٹائم گزارتے ہیں پھر واپس کے پی ہاؤس چلے جاتے ہیں اور کے پی ہاؤس میں تو سارے انتظامات موجود ہیں، سٹاف موجود ہے، کچن چل رہا ہے، کھانے کھائے جارہے ہیں مگر دوسری طرف صوبہ کی کیا حالت ہے، پورا صوبہ جل رہا ہے کیا صوبے اور صوبائی حکومتیں ایسے چلتی ہیں؟
ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا جہاں تک پارلیمنٹ ہاؤس کا تعلق ہے میں خود پارلیمنٹ ہاؤس گیا اور صحافی میں وہاں پر موجود تھے میری وہاں ایک میٹنگ تھی وہاں سب نارمل ہے بزنس چل رہا تھا میٹنگز چل رہی تھیں-
اب اس کے باوجود اپوزیشن کا مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیا کہتے ہیں کہ وہ ان کو کیوں کھانے پینے کی چیزیں نہیں مل رہیں یہ فقط اپوزیشن کا ڈرامہ، پراپیگنڈا اور دوسری طرف ان کی کافیاں چل رہیں، چائے چل رہی ڈرائی فروٹ کے تھیلے کھلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے حیرت کیساتھ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادھر سنا تھا کہ پی ٹی ائی کے لوگوں نے وفاق کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے مگرآپ نے پورے صوبے کو جام کردیا ہے، پورے صوبے کے روڈز بند کیے ہیں اور صوبائی حکومت خود صوبے کی حکومت کے خلاف اور عوام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان تو کھلا ہوا ہے، کاروبار چل رہا ہے مگر خیبرپختونخوا جل رہا ہے، اوپر سے رمضان کا مہینا رہا ہے لوگ مشکلات میں ہیں اگر آپ پ نے دھرنا دینا ہے تو تو جا کر کے پی میں بارڈر پر دیں وہاں پر اپنے لوگ کھڑا کریں مگر کم از کم صوبائی عوام کو اذیت مت دیں
انکا مزید کہنا تھا کہ یہاں پر دیکھیں وفاقی حکومت کی یہ بڑی ذمہ داری بنتی ہے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ پیچھے دو ہفتے سے جو ہمارے صوبے کے روڈ بند ہیں تو آئی جی کو وفاقی حکومت حکم دے کہ روڈز کھولے جائیں ہر جگہ پہ 10، 10، 15 لوگ ہیں کوئی ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں تو لوگ نہیں کھڑے، یہ احتجاجی ایک ایک ڈاٹسن کی ساری مار ہیں جو لوگ کھڑے ہیں ، ایک ڈاٹسن پولیس کی جائے تو راستے کھل سکتے ہیں، وفاقی حکومت کے اس پر ایکشن لینا چاہیے لوگوں کے مسائل کو دیکھنا چاہیے۔
ان راستوں کی بندش سے کوئی پیسنجرز ہیں کوئی مریض ہیں کوئی ایمرجنسی میں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں پر پی ٹی آئی کی حکومت ایک عذاب ہے۔
ایک اور سوال پر گورنر کا کہنا تھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری بالکل مہمان نواز ہیں، بڑے دل کے آدمی ہیں مگر مہمان نوازی ان کی کی جاتی ہے تو مہمان بن کر آئیں، یہ اپوزیشن بن بلائی زحمت ہے، جن کو ضرورت ہوتی ہے وہاں صدر مملکت بتائے بغیر پہنچ جاتے ہیں مگر اپوزیشن کے پاس سب کچھ ہے یہ فقط ڈرامے بازی کررہے ہیں، صدر مملکت کو معلوم ہے انہوں نے کیا کرنا ہے فی الوقت وہ جنوبی پنجاب کے دورے پر ہیں، صدر صاحب ہمیشہ مہمان نواز ہوتے ہیں لیکن ان لوگوں کو کھانا پہنچایا جاتا ہے جہاں پر کوئی مشکل میں ہو یہ تو پورے آرام سے دھوپ بھی سیکتے ہیں اندر بھی آ جاتے ہیں اپوزیشن کے انجوائے نما دھرنے میں چائے کافی، کھانے شانے ڈرائی فروٹ چل رہے ہیں۔
