جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا۔ ایرانی وفد نے مذاکراتی عمل پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو سخت پیغام دیا۔ پابندیوں کے خاتمے اور تکنیکی مذاکرات پر اہم پیش رفت۔

جنیوا میں ایران اور امریکہ کے بالواسطہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، ایرانی وفد کا اطمینان کا اظہار
جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملے پر بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں منعقد ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد مذاکراتی مقام سے روانہ ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ امریکی وفد اس عمارت میں داخل نہیں ہوا جہاں عمان کے وزیر خارجہ اور ایرانی ٹیم موجود تھی۔ ایرانی وفد اقوام متحدہ میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر موجود تھا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وفد مذاکراتی عمل سے مطمئن ہے اور اس سلسلے کو جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی وفد نے عمانی وزیر خارجہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتیں کیں، جس کے بعد مذاکرات کا یہ مرحلہ تکنیکی سطح میں داخل ہو گیا ہے۔

رہبرِ اعلیٰ کا سخت مؤقف
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مذاکرات کے آغاز کے موقع پر امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
انہوں نے امریکی صدر کے فوجی طاقت سے متعلق بیانات اور طیارہ بردار بحری جہاز کی مشرقِ وسطیٰ روانگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“جنگی جہاز یقیناً ایک خطرناک ہتھیار ہے، لیکن سب سے خطرناک ہتھیار وہ ہے جو اسے سمندر کی گہرائیوں میں ڈبو سکتا ہے۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ نے اپنا طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا ہے۔
ایران کی شرائط
ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے خبر رساں ادارے Reuters سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر جوہری مذاکرات کے لیے ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور غیر حقیقی مطالبات سے گریز ضروری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس دور کے بالواسطہ مذاکرات میں بنیادی موضوع جوہری فائل تھا۔
شکریہ بی بی سی
