ایران پاکستان تجارتی راستے ، پاکستان کے ذریعے سامان ٹرانزٹ آرڈر2026ءکا نوٹیفکیشن جاری ، فوری نافذ العمل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستا ن نے ایران کو اہم ترین تجارتی روٹس کے استعمال اجازت دیدی۔ وزارت تجارت کی جانب سے پاکستان کے ذریعے سامان ٹرانزٹ آرڈر 2026ءکا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا، 6مختلف روٹس کا تعین بھی کردیاگیا، نوٹیفکیشن کسی تیسرے ملک سے روانہ ٹرانزٹ اشیاءکی نقل و حمل پر لاگوہوگا۔

تفصیلات کے مطابق گوادر گبد، کراچی ، پورٹ قاسم۔ لیاری، ارماڑہ۔ پسنی اور گبد روٹس ۔کراچی پورٹ قاسم، خضدار، دالبندین، تفتان روٹس ۔ گوادر، تربت ،ہوشاب، پنجگور، ناگ، بیسیمہ، خضدار، کوئٹہ/ لک پاس ، دالبدین ، نوکنڈی، تفتان اورکراچی ، پورٹ قاسم ، گوادر اورگبد کے روٹس ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے متعین کیے گئے۔ گوادر، پورٹ قاسم، لیاری، اورماڑہ، پسنی اور گبد روٹس میں شامل ہیں، کراچی پورٹ قاسم، خضدار، دالبندین، تفتان، گوادر، تربت کے راستے حکم نامے کا حصہ ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق ہوشاب، پنجگور، ناگ، بیسیمہ، خضدار، کوئٹہ/ لک پاس، نوکنڈی کے راستے حکم نامے میں شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کسی تیسرے ملک سے روانہ ٹرانزٹ اشیاءکی نقل و حمل پر لاگو ہوگا جو پاکستان کے ذریعے ایران کے کسی مقام تک پہنچائی جائینگی۔یہ اجازت پاکستان اور ایران مابین2008کے معاہدے تحت دی گئی جوسٹرک کے راستے مسافرو ں اور اشیاءکی انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کے لیے پاکستان اور ایران کی حکومتوں کے مابین ہوا تھا۔ وفاقی حکومت نے امپورٹ، ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ 1950 میں ترامیم کردی، یہ حکم ان ٹرانزٹ اشیا کی نقل و حمل پر لاگو ہوگا جو کسی تیسرے ملک سے روانہ ہوں، ٹرانزٹ اشیائ پاکستان کے ذریعے ایران کے کسی مقام تک پہنچائی جائیں گی۔پاکستان نے سامان کی نقل و حمل کے لیے روٹس کا تعین بھی کردیا۔ سامان کی نقل و حمل کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بنائے گئے قواعد کے تحت ہوگی، سامان کی نقل وحمل ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔
