جماعت اہل حرم پاکستان کے زیر اہتمام کانفرنس سے علامہ سید ساجد علی نقوی، مفتی گلزار احمد نعیمی، علامہ راجا ناصر عباس، صاحب زادہ ابوالخیر محمد زبیر، پیر نور الحق قادری، ڈاکٹر ساجد الرحمن و دیگر کے خطابات

عالم اسلام اغیار کے نشانے پر جبکہ اسلامی تہذیب کو مسخ کیا جارہا ہے، کانفرنس سے شرکاء کے خطابات، عوام کی کثیر تعداد کی شرکت
تفصیلات کے مطابق ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام جماعت اہل حرم پاکستان کی میزبانی میں 13 ویں خاتون جنت کانفرنس کا انعقاد ہوا، کانفرنس کی صدارت سابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر ڈاکٹر نور الحق قادری نے کی ، کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے شرکت کی ۔ علامہ سید ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ اسلامی تہذیب اس وقت نشانہ پر ہے، سیدہ فاطمتہ الزہرا کی سیرت و کردار سے استفادہ کی ضرورت ہے، اس وقت امت مسلمہ کو جتنی وحدت کی ضرورت ہے اس میں اس طرح کے پروگرام بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ، ہمیں اسی اتحاد کیساتھ جناب سیدہ کے مشن کو آگے بڑھائیں ، آج اسلامی تہذیب کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہیں ، ہمیں سیدہ فاطمتہ الزہرا کے سیرت و کردار سے استفادہ کرتے ہوئے اسلامی تہذیب کے فروغ کیلئے آگے بڑھیں ، افسوس کی بات ہے کہ سرکاری سطح پر اسلامی تہذیب و تربیت کیلئے کوئی نظام نہیں ، اتحاد و وحدت کیلئے ہمیں تسلسل کیساتھ اسے بڑھانا ہوگا ، ہماری ہمیشہ کوشش رہی کہ پوری امہ مشترکات پر اکٹھی ہو اور مقدسات کا احترام ہو ، پاکستان میں کوئی مذہبی تفریق نہیں، ہم سب اکٹھے ہیں ، یہاں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی جسے ہم نے اتحاد و وحدت و ملی یکجہتی کے ذریعے ناکام بنایا ، پاکستان میں آج تک کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں، ہم سب متفق ہیں، مقامی سطح پر کوئی جھگڑا ہو تو اسکی کوئی اہمیت نہیں ، ہمیں اتحاد امت اور پاکستان میں باہمی بھائی چارے کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے

خطبہ استقبالیہ میں کانفرنس کے میزبان و جماعت اہل حرم پاکستان کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے تمام شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں مصنوعی دیواریں ختم کرکے آگے بڑھنا ہوگا، آج غزہ سمیت ہر جگہ مسلمان مظلومیت کی تصویر بنے ہیں،حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم کے نزدیک سب سے محبوب ہستی حضرت فاطمتہ الزہرا تھیں ، ہر دور میں سیاسی مسائل کے سبب ایک دوسرے سے اختلافات بڑھانے کی کوشش کی ، آج اتحاد امت پوری امت مسلمہ کی سب سے زیادہ ضرورت اس لئے کیونکہ کونسا ملک ہے جہاں مسلمان نشانہ نہیں بن رہے؟ سیاسی مقاصد کی بجائے اگر دینی مقاصد پر متوجہ ہوتے آج امہ کی یہ صورتحال نہ ہوتی۔ تکفیریت کرنے والے اور اسے بڑھاوا دینے والے ظالم ہیں، ہمیں یہ کھڑی کی گئی مصنوعی دیواروں کو توڑنا ہوگا ،حضرت خاتون جنت کانفرنس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ اتحاد و وحدت کے مشن کو آگے بڑھایا جائے

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین مجلس وحدت المسلمین سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمتہ الزہرا کے احترام میں خود نبی کریم کھڑے ہوتے تھے، ہمیں اپنے کردار سے ایک بہترین انسان بننا ہوگا، حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ایسی ہستی ہیں جن کے سیرت و کردار سے ہمیں استفادہ کی ضرورت ہے

سابق وفاقی وزیر و سینیٹر ڈاکٹر پیر نور الحق قادری نے خطبہ صدارت میں کہاکہ تمام مکاتب فکر کے علماء کا اکٹھ اتحاد امت کا بڑا پیغام ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس نے نبی کو راضی کیا اس نے مجھے راضی کرلیا نبی نے فرمایا جس نے فاطمتہ الزہرا کو راضی رکھا اس سے میں راضی ہوا جس نے انہیں ناراض کیا تو مجھے ناراض کیا اپنے اہل بیت خصوصاً اہل کساء کیساتھ جس عقیدت و محبت کا درس حضور نے دیا اسے اپنانے کی ضرورت ہے اہل بیت کے مقام، رتبہ جو اللہ پاک نے عطاء کیا ہے اس پر پوری امہ متفق ہے ، تمام مکاتب فکر کے علماء کا یہاں اکٹھ ہونا اتحاد امت کا بڑا پیغام ہے۔

کانفرنس سے ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمتہ الزہرا کی شان خود نبی اکرم و قرآن پاک نے بیان کی ہے حضرت فاطمتہ الزہرہ (س) پیکر حیا تھیں مگر افسوس آج پاکستان میں بے حیائی پھیلائی جارہی ہے ، آج پاکستان کے سکولوں، کالجز، یونیورسٹیز میں کیا ہورہا ہے ؟ آج ہمارے ملک میں ہمارا جسم ہماری مرضی کے نعرے لگتے ہیں
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صاحب زادہ پیر ساجد الرحمان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کیلئے حضور اکرم نے اپنے گھر کو چھوڑا، پتھر کھائے، اپنے جانثار خاک و خون میں دیکھے ، آج یہ امت فرقہ فرقہ ہے، یہ صاحبان علم کیلئے لمحہ فکریہ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسوہ کامل و نمونہ کامل پوری کائنات کیلئے ہیں آپ نے حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو دنیا و آخرت کی خواتین کا سردار قرار دیا حضور اکرم (ص) کا اسوۂ کامل کبھی خلافت راشدہ میں نظر آتا ہے اور کبھی یہ کربلائے معلٰی میں کمال پر پہنچتا ہے ۔ ہماری اسلامی تہذیب سازشوں کا شکار ہوکر روایات سے محروم ہورہی ہے۔سید ناصر عباس شیرازی، ڈاکٹر علی عباس نقوی اور دیگر معزز مقررین نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔
دوسری جانب جماعت اہل حرم پاکستان کی جانب سے کانفرنس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسلام واحد دین ہے جس نے عورت کو حقیقی عزت، مقام اور تحفظ فراہم کیا ہے، جبکہ مغربی تہذیب نے عورت کو ایک قابلِ فروخت شے بنا کر اس کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ کانفرنس میں سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، کردار اور اسوۂ مبارکہ کو امتِ مسلمہ خصوصاً خواتین کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا۔ اسلامی حجاب کو خواتین کا وقار، محافظ اور حسن قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا اور اتحادِ امت و بین المسالک ہم آہنگی کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ وطنِ عزیز پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقتدر حلقوں سے مثبت کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ دہشت گردی کو ہر صورت قابلِ مذمت قرار دیا گیا۔ کانفرنس میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی گئی اور فلسطینی خواتین کی قربانیوں کو سیرتِ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا عملی مظہر قرار دیا گیا۔کانفرنس میں متفقہ مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان سمیت پورے عالمِ اسلام میں یومِ خواتین کے طور پر سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یومِ ولادت منایا جائے۔ شرکاء نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں جامعہ نعیمیہ اسلام آباد سے فارغ ہونے والے حفاظ،اور علماء اور مفتیان کی دستار بھی کروائی گئی۔ کانفرنس کا اختتام پاکستان کی سلامتی، امتِ مسلمہ کی وحدت اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے خصوصی دعا پر ہوا۔
