ایران، عراق، لبنان، پاکستان میں مظاہرے، پاکستان میں مختلف جھڑپوں میں 25 سے زاید افراد جاں بحق
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی عوام سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران کے غم میں برابر کا شریک ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں افغانستان سمیت علاقائی اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ کیا گیا،اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نے بھی شرکت کی، اجلاس میں ایران سے پاکستانیوں کےبحفاظت انخلاء پر غور اور داخلی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنا دورہ روس منسوخ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کی دیگر اعلیٰ قیادت کی شہادت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔اپنے بیان میں صدرمملکت نے کہا کہ ایسے قدآور رہنما کے انتقال پر پوری مسلم دنیا میں گہرائیوں سے احساس کیا جائیگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی عوام سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میںوزیراعظم نے کہا پاکستان بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے،یہ قدیم روایت ہے کہ سربراہانِ مملکت و حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ہم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مغفرت کے لیے دعاگو ہیں، اللہ تعالی ایرانی عوام کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کیلئے صبر اور ہمت عطا فرمائے۔ علاوہ ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت علاقائی اور پاکستان کی سیکورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اعلی سطح اجلاس اتوار کے روز منعقد ہوا۔ وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں علاقائی و خطے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کیلئے کرادر اور مختلف اقدامات زیر غور آئے۔وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کے اقدامات کا بھی جائزہ لیاگیا۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایاگیا کہ آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز، وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلی سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف نے بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ٹیلی فون پر اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے کئی خلیجی ممالک بشمول مملکت بحرین پر جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین،شیعہ علما کونسل، جعفریہ الاینس سمیت دیگر تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے امریکن قونصل خانوں اور سفارتخانے جانے پر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ الجھاو اور آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ فایرنگ کے سبب 25 زاید مظاہرین جاں بحق اور متعدد زخمی بھی ہوگیے، کیی پولیس اہلکار بھی پتھراو کے سبب زخمی ہویے
ادھر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے رہبر انقلاب اسلامی و سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای،ان کے ہمراہ چیدہ چیدہ نامور شخصیات اور انکے خاندان کے افراد کی شہادت پر گہرے دکھ، غم کے اظہار کرتے ہوئے چالیس روزہ کے سوگ کا اعلان کردیا، جمعۃ المبارک 6مارچ2026ئکو سامراجی و صہیونی ننگی جارحیت کیخلاف ملک گیر پرامن احتجاج کی کال بھی دیدی،اپنے تعزیتی پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے شہید رہبر،مدبر و بصیر، حکیم و دانا عالم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ امت مسلمہ سمیت انسانیت کیلئے ان کی گراں قدر خدمات تھیں، ہر معاملے پر انہوں نے انسانیت کی فلاح کو ترجیح دی جس کا سب سے بڑا ثبوت جوہری توانائی کے باوجود ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہونے بارے واضح و دوٹوک موقف تھا، وہ تمام مظلومین جہان کیلئے بھرپور و توانا آواز بلند کرتے رہے، انہوں نے شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ الظمی سید علی خامنہ ای کے ہمراہ چیدہ چیدہ نامور شخصیات سمیت رہبر انقلاب کے خاندان کے افراد کی شہادت پر ملک گیر40روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے شہید رہبر انقلاب و دیگر شہداء کیلئے 40 روز تک قرآن خوانی و مجالس تراحیم کے انعقاد کا اعلان کیا۔
