اہم ترین اصولوں پر اتفاق رائے، بات چیت آگے بڑھے گی، رہنما اصول طے کرلئے گئے
ایرانی وزیر خارجہ مطمئن ، امریکہ کی جانب سے بھی مثبت اشارے، مثبت پیش رفت کا آغاز

وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جنیوا میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوران گزشتہ اجلاس کے مقابلے میں “اچھی پیش رفت” ہوئی ہے۔جنیوا میں مذاکرات کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پرامن ایٹمی توانائی کے استعمال کا ایران کا حق ، ناقابل مذاکرات اور قانونی طور پر پابند ہے۔ انہوں نے ایرانی میڈیا کے ساتھ منگل کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں تخفیف اسلحہ سے متعلق کانفرنس کے اقوام متحدہ اجلاس میں تقریر بھی کی۔ عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ “جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو¿ سے متعلق معاہدہ (NPT) واضح طور پر تمام ریاستوں کے فریقین کے پرامن مقاصد کے لیے تحقیق، پیداوار اور جوہری توانائی کے استعمال کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ حق موروثی، غیر گفت و شنید اور قانونی طور پر پابند ہے۔””یہ سیاسی تحفظات پر مشروط نہیں ہے، اور نہ ہی اسے من مانی طور پر معطل یا دوبارہ تشریح کیا جا سکتا ہے ، اس حق کو منسوخ یا صوابدیدی کے طور پر پیش کرنے کی کوئی بھی کوشش بنیادی طور پر معاہدے کے خط اور روح سے متصادم ہے،” ۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے یہ حوصلہ افزا ٓاطلاعات موصول ہورہی ہیں
عباس عراقچی کے مطابق اس بار ’بات چیت کافی سنجیدہ تھی‘ اور ’زیادہ تعمیری ماحول تھا‘ اور ’مختلف خیالات پیش کیے گئے اور ان پر سنجیدگی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’رہنما اصولوں پر کلی اتفاق ہوا ہے، اور ان اصولوں کی بنیاد پر ہم ایک دستاویز کی تیاری شروع کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کام فوری طور پر مکمل نہیں ہوگا، لیکن ایران اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ البتہ اگلے دور کے لیے ’کوئی مخصوص وقت طے نہیں ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ایک ممکنہ معاہدے کے متن پر کام کریں، پھر ایسے متن کا تبادلہ کریں اور پھر تیسرے دور کے لیے تاریخ مقرر کریں۔‘
