وزیراعظم میاں شہباز شریف نے مولانا سمیت اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا، پی ٹی آیٰی کا بائیکاٹ
اسرائیل کا ایران اور طالبان کا پاکستان پر حملہ منصوبے کے تحت ہوا، سینئر صحافی کا انکشاف
ان کیمرہ اجلاس سننے کیلیے ویڈیو پر کلک کریں
ہم اس جنگ کا نہ حصہ بننا چاہتے ہیں نہ کسی ایک پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا چاہتے ہیں، پاکستان کا فیصلہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی کشیدہ صورتحال، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال، طالبان کے پاکستان پر حملے اور پاکستان کا جواب سمیت دیگر قومی سلامتی کے امور زیر غور آئے۔ ان کیمرہ اجلاس کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی. اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا. شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں.ملک سے دھشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا. شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور انکا شکریہ ادا کیا.

اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے علاوہ اپوزیشن جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی شریک ہوئے البتہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجا ناصر عباس، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی نے دعوت کے باوجود بائیکاٹ کیا۔

اجلاس کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان سفارتکاری کا عمل جاری رکھے گا مگر کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا ۔ انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی بتایا کہ جب تک تمام اہداف حاصل نہیں کرلئے جاتے اور دہشت گردوں کے ٹھکانے مکمل تباہ نہیں کئے جاتے آپریشن غضب للحق جاری رہے گا

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، اسرائیل کی طرف سے حملہ ہوا، امریکہ اس میں شامل ہم نے بھرپور مذمت کی سپریم لیڈر جناب علی خامنہ ای صاحب کی شہادت ہوتی ہے ایران کے سپریم لیڈر کیساتھ 40 سے زائد لیڈرز کی شہادت ہوتی ہے پاکستان نے اس سے بڑے واضح الفاظ میں مذمت کی تو دوسری جانب خلیجی ریاستوں کے اوپر بھی اس وقت حملے ہو رہے ہیں ہمیں اس پہ بھی شدید تشویش ہے۔
اس صورتحال کے حوالے سے پاکستان اپنا ایک ذمہ دارانہ کردار وہ ادا کر رہا ہے ائندہ بھی کریں گے ۔
ہم اس جنگ کا نہ حصہ بننا چاہتے ہیں نہ کسی ایک پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا چاہتے ہیں
پاکستان اس وقت ڈی ایسکلیشن کی بات کر رہا ہے ۔ پاکستان تمام ممالک کو امن کا پیغام دینا چاہتا ہے تناؤ کی کیفیت کو کم کیا جائے
اس صورتحال میں وزیراعظم نے ایک ان کیمرہ سیشن کا انعقاد کیا ۔ دفتر خارجہ نے تفصیلی بریفنگ دی ہمارے ڈپٹی پرائم منسٹر نے بھی بریفنگ دی اس خطے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی تمام لیڈرز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آنے والے دنوں میں پاکستان زعما کی رائے میں آگے بڑھے گا ، اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں گئے تھے بریفنگ کیلئے مدعو کیا گیا۔ افسوس کہ اپوزیشن نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا، یہ اجلاس بنیادی طور پر قومی پالیسی اور آئندہ کی حکمت عملی پر طلب کیا گیا ، برادر اسلامی ممالک کیساتھ تعلقات بارے آج اپوزیشن کا ان پٹ درکار تھا ، آج بھی اپوزیشن سے کہوں گا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں اتحاد اور یکجہتی کا ہے-
انہوں نے افغانستان آپریشن کا تذکرہ کرتے ہوئے اور پس منظر بیان کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس خطے کے اندر پاکستان نے ہمیشہ امن کا کا کردار ادا کیا ہے، امن کی بات کی ہے انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے لیکن اس کے باوجود ہم نے کبھی انڈیا کے ساتھ جارحیت کی بات نہیں کی ہم نے اپنے ملک میں دہشت گردی برداشت کی لیکن اس کے باوجود ہم امن کی بات کرتے رہے انڈیا کی طرف سے جارحیت مسلط ہوئی چھ اور سات مئی کو ، اسکا جواب 10 مئی کو پاکستان نے دیا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے جو پوری دنیا کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔
پاکستان پر امن ملک جس نے کبھی جارحیت نہیں کی ہمیشہ دفاع کیا

افغانستان کے لیے پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں چاہے وہ روس کیساتھ جنگ ہو یا امریکہ کیساتھ ، جب افغانستان میں امریکہ کے اڈے قائم تھے، تسلط تھا ہماری ہمدردیاں ہمیشہ افغانستان کے ساتھ رہیں افغان مہاجرین کی جس طرح ہم نے یہاں پہ مہمان نوازی کی ان کی دادرسی کی یہ بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔
بڑی افسوس کی بات ہے کہ ان تمام اچھائیوں کے باوجود اس وقت جو صورتحال پیدا ہوئی ۔ جب سے افغانستان میں افغان طالبان رجیم ائی ہے پاکستان میں دہشت گردی بڑھ گئی۔ پاکستان نے افغانستان کو بارہا دہشت گردی بارے آگاہ کیا لیکن کبھی بھی افغان طالبان کی طرف سے مثبت جواب نہ آیا دوحہ اور اس کے بعد استنبول میں مذاکرات ہوچکے، 10 ارب روپے کی ڈیمانڈ کی گئی اسے قبول کیا لیکن جب ہم نے ان سے یہ گارنٹی مانگی کہ کیا یہ دہشت گرد ان علاقوں میں نہیں بسائیں گے اس بات کی ضمانت دینے کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔
دہشت گردی کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے اور بطور پروکسی وہاں سے کارروائیاں ہو رہی ہیں، ہم اس کے ثبوت بھی افغان طالبان رجیم کو دیئے لیکن ان کے کانوں پہ جوں تک نہیں رہی۔
قبل ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت ان کیمرہ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل، وفاقی وزراء، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ)، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک ہوئے۔
